اسلام آباد:

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 10 جولائی تک ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا۔

این ڈی ایم اے کے الرٹ کے مطابق دریائے کابل، سندھ، چناب اور جہلم میں پانی کی سطح میں اضافہ متوقع ہے جبکہ دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ، چشمہ اور تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب بھی متوقع ہے۔

دریائے چناب پر مرالہ اور خانکی، جبکہ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔ دریائے سوات اور پنجکوڑہ کے ملحقہ ندی نالوں میں بھی بارشوں کے باعث طغیانی کا خدشہ ہے۔ پیر پنجال سے نکلنے والے ندی نالوں میں درمیانے درجے کا ممکنہ سیلاب شمال مشرقی پنجاب کے علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

ممکنہ بارشوں کی صورت میں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں، ہل ٹورنٹس کے بہاؤ میں بھی شدید اضافہ متوقع ہے۔

بلوچستان کے اضلاع جھل مگسی، کچھی، سبی، قلعہ سیف اللہ، ژوب اور موسیٰ خیل کے مقامی ندی نالوں کے بہاؤ بھی شدید اضافے کا امکان ہے۔ گلگت بلتستان میں دریائے ہنزہ اور شیگر کے بہاؤ میں اضافہ جبکہ دریائے ہسپار، خنجراب، شمشال، برالدو، ہوشے اور سالتورو میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

این ڈی ایم اے اور متعلقہ ادارے صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں، بروقت اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ تیز بہاؤ کی صورت میں ندی نالوں، پلوں اور پانی میں ڈوبی سڑکوں سے گزرنے سے گریز کریں۔

ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر نشیبی علاقوں کے مکین قیمتی اشیاء اور مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا قبل از وقت بندوبست رکھیں۔ حساس علاقوں کے مکین ہنگامی صورتحال کے لیے 3 سے 5 دن کی خوراک، پانی اور ادویات پر مشتمل ایمرجنسی کٹ تیار رکھیں۔

مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے فوری نکاسی آب کے لیے ضروری مشینری اور پمپس تیار رکھیں۔ سیلابی علاقوں کے مکین ٹی وی اور موبائل الرٹس کے ذریعے سرکاری اعلانات اور الرٹس سے آگاہ رہیں۔

این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ عوام سے گزارش کی ہے کہ موسم اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے آگاہی کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے راہنمائی لیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈی ایم اے ندی نالوں متوقع ہے کے لیے

پڑھیں:

دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ 

فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔

دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب  ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔

اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار  ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب  ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔  ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھی۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب