بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ اور سوچ سے بڑھ کر جواب دیا جائے گا: فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین یا مفادات کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا ایسا شدید اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا جو دشمن کی سوچ سے بھی زیادہ سخت اور تکلیف دہ ہوگا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے دورے کے دوران نیشنل سکیورٹی اینڈ وار کورس مکمل کرنے والے مسلح افواج کے افسران سے خطاب کیا، انہوں نے بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی سکیورٹی منظرنامے، جنگ کے بدلتے کردار اور اس سے جڑے خطرات پر سیر حاصل گفتگو کی۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ بھارت آپریشن سندور کے دوران اپنے مقرر کردہ فوجی اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا اور اب اپنی اس شکست کی غیر منطقی توجیہات پیش کرکے اپنی اسٹریٹیجک کمزوریوں کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی دہائیوں پر محیط حکمت عملی، مقامی دفاعی صلاحیتیں اور مضبوط ادارے ہماری طاقت کا مظہر ہیں، جنہیں بھارت ماننے سے گریزاں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی کامیابی میں بھارت کی جانب سے بیرونی تعاون جیسے الزامات غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی ہیں، ہماری آبادی کے مراکز، فوجی اڈوں، اقتصادی مراکز اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا شدید، گہرا، تکلیف دہ اور سوچ سے بڑھ کر زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے بھارتی قیادت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ خالصتاً دوطرفہ فوجی تصادم میں دیگر ممالک کو گھسیٹنے کی کوشش بھارت کی ناقص سیاسی سوچ اور کمزور حکمت عملی کی عکاس ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مزید کہا کہ بھارت خطے میں اپنا خود ساختہ کردار جمانے کے لیے فرضی نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر بننے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خطے کے کئی ممالک بھارت کی جارحانہ پالیسیوں اور انتہا پسند ہندوتوا نظریات سے پہلے ہی نالاں ہیں۔
آرمی چیف نے اس موقع پر مسلح افواج کے افسران پر زور دیا کہ وہ بدلتے عالمی حالات کے تناظر میں ذہنی طور پر چوکنا رہیں، عملی فہم اور پیشہ ورانہ مہارت کو مزید بہتر بنائیں اور سول ملٹری اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیں تاکہ ہر چیلنج کا موثر مقابلہ کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل بھارت کی
پڑھیں:
دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
سٹی 42:سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتےہوئے کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔
وزیر اعلی کے پی فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہو گئے ۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی فیکٹری ناکہ سے روانگی سے قبل میڈیا ٹاک میں کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔2026-27کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں،مطالبہ کے کہ کے پی حکومت بانی کی ہے۔کے پی عوام نے بانی کو ووٹ دیا وہ انکو چاہتی ہے ۔کے پی عوام چاہے گی کہ بجٹ بانی کی خواہشات کے مطابق بنے ۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بجٹ کے حوالے سے میری اور وزیر خزانہ سے ملاقات ہو تاکہ ان سے بجٹ کی اپروول لے سکیں۔ہم کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں،امید ہے اس دفعہ ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی،آج بھی بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔بانی نے کوئی جرم نہیں کیا،انکو اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔
پنجاب کی جعلی حکومت،جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی کی آنکھ میں مسئلہ ہوا،عوام میں تشویش ہے کہ بانی کی ملاقات بند ہے،وہ اندر کیا کر رہے ہیں کہ تمام چیزیں روکی ہوئی ہیں۔یہ کیوں ملاقات نہیں کروا رہے،کے پی سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے،میں نے ملاقات کا مطالبہ کرکےکوئی غلط ڈیمانڈ نہیں کی۔کے پی میں عوام نے بانی کو مینڈیٹ دیا یہ انکا حق ہے کہ بجٹ بانی کی مرضی کے مطابق ہو ۔ کے پی کا وزیر اعلی بانی تبدیل کر سکتے ہیں باقی کسی میں جرات نہیں،وہ ہلا بھی سکے ۔محسن نقوی سے ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی ۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،وہاں پر کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے اگر ہم ان سے لڑائی کریں ۔کسی کی خوشنودی کے لئے ان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں،
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
بجٹ میں بانی کی ہدایات کو شامل کیا گیا ہے،سوشل ویلفیئرتعلیم،صحت کو شامل کیا گیا ۔بانی نے کہا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے
2026میں پاکستان انکے مشورے پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں اسکی واہ واہ ہوتی ہے ۔ہر بندہ بولتا ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے میں نے وزیراعلی کے دروازے کھلے رکھے ہیں کرپشن کے ثبوت لائیں۔