اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری اور سابق نگران وزیر فواد حسن فواد کا کہنا ہے کہ عام آدمی کے لیے چینی کی قیمت قابو میں رکھنے کے نام پر تقریباً 30 کروڑ ڈالر مالیت کی چینی درآمد کرنے کا فیصلہ فوری طور پر نظرثانی کا متقاضی ہے۔

ایکس پر جاری ایک بیان میں  فواد حسن فواد کا کہنا تھا  کہ حقیقت یہ ہے کہ چینی کا سب سے بڑا استعمال کرنے والا طبقہ عام عوام نہیں بلکہ فوڈ اینڈ بیوریج انڈسٹری ہے، جو چینی کی اصل صارف ہے۔ ان کے مطابق اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہی صنعتیں وہ لوگ ہیں جنہوں نے پہلے زرمبادلہ کمانے کے نام پر چینی کی برآمد کے آرڈرز حاصل کیے، اور اب وہی زرمبادلہ اپنے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان صنعت کاروں نے برآمدات اور مقامی مارکیٹ دونوں جگہ قیمتوں میں ہیرا پھیری کر کے اربوں روپے کمائے۔

مودی کی توسیع پسندانہ سوچ،علاقائی خودمختاری پر  ایک اور حملہ.

..بھارتی افواج کی میانمار میں کارروائی، ڈرون حملے

فواد حسن فواد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فی کس چینی کا سالانہ استعمال 28 کلوگرام ہے، جو ایک بہت بڑا عدد ہے۔ اس کے ساتھ وہ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ چینی ایک ایسی مضر صحت شے ہے جس پر قیمتی زرمبادلہ خرچ نہیں ہونا چاہیے۔ موجودہ حالات میں عام آدمی نہ مشروبات خرید سکتا ہے اور نہ ہی مٹھائیاں، لیکن حکومت پھر بھی ان کے نام پر چینی درآمد کرنا چاہتی ہے اور پھر زرمبادلہ کے لیے مزید قرض لے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں پر قابو پانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور اگر وہ اس میں ناکام ہو گئی ہے تو اس ناکامی کو جواز بنا کر چینی درآمد کرنا درست نہیں۔ حکومت کو اصل مسئلے پر توجہ دینی چاہیے، یعنی چینی کی قیمتوں میں اضافے میں شوگر انڈسٹری، مڈل مین اور تاجروں کے کردار کی تحقیقات ہونی چاہیے، درآمدات کا سہارا لینے کی بجائے۔

ڈبلیو ڈبلیو ای ریسلر گولڈبرگ تین دہائیوں کے شاندار کیریئر کے بعد ریسلنگ سے ریٹائر ہو گئے

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جنہوں نے چینی کی برآمد کی اجازت دی تھی، ان کا کیا بنا؟ اور ایف بی آر کہاں ہے؟ اگر ایف بی آر صرف پچھلے پانچ برسوں میں شوگر انڈسٹری چین کی کمائی پر 35 فیصد ٹیکس ہی وصول کر لے، تو وہ ملک کی ٹیکس آمدنی میں ایک بڑا خلا پُر کر سکتا ہے۔

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: فواد حسن فواد کا کہنا چینی کی

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری

گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.

 قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ