مولانا عبدالغفور حیدری—فائل فوٹو 

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ کے پی میں حکومت ختم کر کے گورنر راج نافذ کرنے کی تبدیلی کو اچھا نہیں سمجھتا۔

گجرات میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ آئینی جمہوری طریقے سے صدرِ پاکستان تبدیل ہونا جمہوری عمل ہے، صدر زرداری کی تبدیلی کے کوئی آثار بظاہر نظر نہیں آ رہے۔

انہوں نے کہا کہ ان ہاؤس تبدیلی کے لیے سیاسی جماعتوں کا کوشش کرنا آئینی اور جمہوری حق ہے، بانیٔ پی ٹی آئی کے بیٹوں کے پاکستان آنے میں کوئی حرج نہیں، بچوں کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ بانیٔ پی ٹی آئی کی سابقہ اہلیہ نے ہی کرنا ہے۔

علی امین گنڈاپور کا مولانا فضل الرحمٰن کو اپنے بھائی سے الیکشن لڑنے کا چیلنج

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ اگر ان کا بھائی الیکشن ہارا تو وہ ہمیشہ کیلئے سیاست چھوڑ دیں گے۔

رہنما جے یو آئی نے کہا کہ پرویز الہٰی بانیٔ پی ٹی آئی سمیت سب کا سیاست میں آئینی دائرے میں رہتے ہوئے کردار ہونا چاہیے، آئین کو ماننے والی سیاسی جماعتوں کو جمہوری عمل کا حصہ رہنے دینا چاہیے، پی ٹی آئی سے سیاسی لڑائی تھی لیکن مفاہمت کو ترجیح دی، ہمارے تحفظات 2013ء اور 2018ء میں بھی تھے، کئی زیادتیاں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی پی ڈی ایم بنی تھی، پیپلز پارٹی راستے میں چھوڑ کر چلی گئی، لوگ اپنے مفاد کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، ان کے معاہدے سب کے سامنے ہیں، روزِ اوّل سے موجودہ حکومت کو تسلیم نہیں کیا، یہ آئینی حکومت نہیں، بلوچستان کے حالات پر دکھ ہے مگر حکومت کو کوئی پریشانی نہیں۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے یہ بھی کہا کہ 80ء کی دہائی سے اب تک کچے کے ڈاکوؤں پر جو قابو نہیں پا سکے انہیں حکومت میں رہنے کا حق نہیں، غور کرنے کی بات ہے کہ کچے کے ڈاکوؤں کو جدید اسلحہ اور تاوان کس کی ملی بھگت سے ملتا ہے؟ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ پی ٹی آئی

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا