پاکستان کوگزشتہ مالی سال میں 22 ارب ڈالر سے زائد کی بیرونی فنڈنگ موصول
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 22 ارب ڈالر سے زائد کی بیرونی فنڈنگ موصول ہوئی، جس میں آئی ایم ایف سے ملنے والے 2 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔ اقتصادی امور ڈویژن کی دستاویز کے مطابق، چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے 8 ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور کیا گیا۔ سعودی عرب نے پیٹرولیم اورخام تیل کی مد میں 20 کروڑ ڈالر قرضہ دیا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال 19 ارب 39 کروڑ ڈالر کا نیا بیرونی قرضہ اور گرانٹس ملنےکا ہدف تھا، جولائی تا جون پاکستان کو مقررہ ہدف کے مقابلے 7.
اقتصادی امور ڈویژن کے دستاویزات کے مطابق نیا پاکستان سرٹیفکیٹ میں 1.91 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی گئی، اے ڈی بی نے 2.13 ارب ڈالر،عالمی بینک نے 1.37 ارب ڈالر قرضہ دیا، اسلامی ترقیاتی بینک نے 55 کروڑ 23 لاکھ ڈالر کا شارٹ ٹرم قرضہ دیا، اسلامی ترقیاتی بینک نے اس کے علاوہ 18 کروڑ 63 لاکھ ڈالر فراہم کئے۔
رپورٹ میں کہا گیاہے کہ انٹرنیشنل بینک فارری کنسٹرکشن اور ڈیویلپمنٹ نے 39 کروڑ 23 لاکھ ڈالر دیئے ، چین سمیت مختلف ممالک اور اداروں نے 60 کروڑ ڈالر فراہم کئے، ان میں سعودی عرب، فرانس، جاپان، امریکا، کویت اور کوریا شامل ہیں، سعودی عرب نے پیٹرولیم اورخام تیل کی مد میں 20 کروڑ ڈالر قرضہ دیا۔ Post Views: 3
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کروڑ ڈالر مالی سال ارب ڈالر قرضہ دیا ڈالر کا
پڑھیں:
اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
تصویر، فیس بکاکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) نے مالی سال 26-2025 کی ادائیگیوں کے کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان کردیا۔
اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق تمام ڈرائینگ اور ڈسبرسنگ آفیسرز کو حالیہ کلیمز 12 جون تک جمع کرانا ہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق 12 جون 2026ء تک جاری کردہ ٹوکنز پر تمام غیرمنظور شدہ بلوں کو دوبارہ جمع کرانے کی تاریخ 15 جون ہوگی۔
اعلامیے کے مطابق اے جی پی آر اسلام آباد اور ذیلی دفاتر کےاسائنمنٹ اکاؤنٹس کےلیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون ہوگی۔
اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق 12 جون 2026ء کے بعد اعزازیہ کا کوئی کلیم قبول نہیں کیا جائے گا۔ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہ کے چیک رواں مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد ہوجائیں گے۔
اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق 30 جون 2026ء کے بعد موجودہ مالی سال کےلیے کوئی متبادل چیک جاری نہیں کیا جائے گا۔