خیبرپختونخوا: رواں سال خواجہ سراؤں پر تشدد کے 12 اور قتل کے 15کیسز رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
---فائل فوٹو
صوبۂ خیبرپختونخوا میں خواجہ سراؤں پر تشدد اور ان کے قتل کے واقعات تھم نہ سکے، رواں سال کے دوران خواجہ سراؤں پر تشدد کے 12 اور قتل کے 15 کیسز رپورٹ ہوئے۔
خیبرپختونخوا میں رواں سال خواجہ سراؤں کے قتل کے واقعات مسلسل پیش آ رہے ہیں، 2025ء کے ابتدائی سات ماہ میں اب تک 15 خواجہ سرا قتل ہو چکے ہیں۔
پولیس کی رپورٹ کے مطابق مردان میں 6، پشاور میں 5، چارسدہ میں 3 اور ایبٹ آباد میں خواجہ سرا کے قتل کا ایک واقعہ رپورٹ ہوا۔
اس سے متعلق ڈی ایس پی کا کہنا ہے کہ قتل کے ساتھ ساتھ خواجہ سراؤں پر تشدد کے بھی کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔
پولیس کی رپورٹ کے مطابق خواجہ سراؤں پر تشدد کے 12 کیسز مختلف اضلاع میں درج کیے گئے ہیں، پشاور میں 6، چارسدہ میں 3، مردان میں 2 اور نوشہرہ میں خواجہ سراؤں پر تشدد کا ایک واقعہ پیش آیا۔
صوابی میں ایک خواجہ سرا کی خودکشی کا واقعہ بھی سامنے آیا ہے، جسے مبینہ طور پر مسلسل ہراسانی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کے خلاف ناقابلِ قبول رویوں کے خلاف ایف آئی آرز درج کر کے 20 سے زائد ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خواجہ سراؤں پر تشدد کے قتل کے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔