ماسکو: روس کے ایک دور دراز علاقے امور ریجن میں ایک پرانا اے این-24 مسافر طیارہ خراب موسم کے باعث گر کر تباہ ہو گیا۔ 

حکام کے مطابق، اس سانحے میں تمام 49 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے، جن میں 5 بچے بھی شامل تھے۔

برطانوی جریدے دی سن کی رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ خاباروفسک–بلاگوویشچینسک–ٹنڈا روٹ پر پرواز کر رہا تھا، جب ٹنڈا ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی دوسری کوشش کے دوران لاپتہ ہوگیا۔

???????????? BREAKING:

Wreckage of missing AN-24 plane carrying 49 people has been found 15 km from Tynda, Russia.



All passengers are feared dead from the crash. https://t.co/z1YxjD8lfN pic.twitter.com/c5XPd0i5QV

— SVS NEWS AGENCY (@svsnewsagency) July 24, 2025

ہیلی کاپٹرز کی مدد سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم گھنے جنگلات اور خراب موسم ریسکیو آپریشن میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

Bu gün Rusiyada qəzaya uğrayan təyyarənin görüntüləri yayımlanıb https://t.co/sF6UlE6lHr pic.twitter.com/D5mU4Qhayr

— Operativ Media (@operativmedia) July 24, 2025

حکام کا کہنا ہے کہ تاحال کسی زندہ شخص کے آثار نہیں ملے، اور یہ سانحہ روس کی حالیہ ہوابازی کی تاریخ کا ایک اور المناک باب بن گیا ہے۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
  • غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
  • جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
  • ایران کے جزیرہ قشم میں ایک جنگی طیارہ گرنے کی اطلاعات
  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ