پی پی رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ جنرل باجوہ نے پارلیمان میں 342 میں سے 340 ووٹ لے کر ریکارڈ قائم کیا۔

میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے کہا کہ میاں اظہر وضع دار اور سادہ تھے ۔ انہوں نے آخری وقت میں بھی اپنی جماعت سے وفاداری دکھائی ۔

انہوں نے کہا کہ حماد کے لیے آسان نہیں تھا، تب میاں اظہر نے سیاستدانوں کو سیاست کر کے سبق دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ جس وقت جینا مشکل ہو اس وقت سیاست کی ۔ بہت مجبوریاں آئیں لیکن  انہوں نے ساتھیوں کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ سیاست حالات کُول کرنے کا حکومت کا مزاج نہیں ہے۔ حکومت نے جو فیصلے سنائے غلط ہیں۔  آئی جی پنجاب سے سوال کریں، ایک کا جواب بھی نہیں ملے گا۔ جب 9 مئی کا واقعہ ہوا تو 12 مقام تھے۔ کیا ایک متعلقہ ایس ایچ او کے خلاف کارروائی ہوئی؟

انہوں نے سوال کیا کہ یاسمین راشد کو کیا سوچ کر سزا دی گئی؟۔ وہ بیمار ہیں، 80 سالہ خاتون ہیں، کچھ تو خدا کا خوف کریں۔ یہ آپ ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ ایکسٹینشن کے وقت جنرل باجوہ نے پارلیمنٹ میں یہ ریکارڈ قائم کیا کہ  342 میں سے 340 ووٹ ان کے تھے۔ پارٹی کی اکثریت بانی پی ٹی کے حق میں نہیں مگر میری رائے مختلف ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مریم کو وزیر اعلیٰ لگا کر ہمیں بتا دیا گیا شریف نام کے ساتھ ہونا ضروری ہے ۔ میاں نواز شریف لندن میں غدار کہتے تھے مگر پھر ارکان کو ووٹ کا کہہ دیا ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اعتزاز احسن نے کہا نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی