اسلحہ و شراب برآمدگی کیس میں علی امین گنڈاپور کا بیان قلمبند نہ ہوسکا
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
اسلحہ و شراب برآمدگی کیس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا 342 کا بیان قلمبند نہ ہو سکا۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس پر جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن نے سماعت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی شاہ فیصل اور وکیل ظہور الحسن عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت علی امین گنڈا پور کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔
ایڈووکیٹ جنرل کے پی شاہ فیصل نے کہا کہ آج خیبرپختونخوا میں گرینڈ جرگہ ہے، ملک بھر سے لوگ آرہے ہیں، وزیر اعلیٰ کی مصروفیات کے باعث عدالت سماعت ستمبر تک ملتوی کر دے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل کے پی شاہ فیصل سے کہا کہ آج کی سماعت سے متعلق حکمنامہ دیکھ لیجیے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی امین
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں