اچانک آل پارٹیز کانفرنس، راتوں رات یہ نیا نیریٹِو؛ علی امین نے آج آگ کیوں لگائی؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
سٹی42: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے کئی بار اعلیٰ ترین فورمز پر اہم ترین اجلاسوں میں بیٹھ کر تو فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں ریاست کی پالیسیوں کی حمایت کی آج اچانک ایک بار پھر فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف لڑائی کی مخالفت کیوں کرنے لگے اور عموماً خاموش رہنے والے وزیر داخلہ محسن نقوی کو آج علی امین کو خود جواب دینا پرا، یہ سوالات آج شب پاکستان کے نیوز چینلز پر کئی اہم اینکرز کے شوز میں تجزیہ کاروں کی ڈیبیٹ کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔
میٹرک امتحان میں فیل ہونے پر طالبعلم نے بڑا قدم اٹھالیا
سینئیر اینکر اور جرنلسٹ عبدالمالک نے اپنے شو میں کہا، اچانک "آل پارٹیز کانفرنس" بلائی گئی اور راتوں رات یہ نیا نیریٹیو بنایا گیا۔ عبدالمالک نے سوال کیا، علی امین کون سا خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔
سینئیر موسٹ اینکر اور جرنلسٹ طلعت حسین کے شو مین اس موضوع پر بحث میں سابق وفاقی وزیر نے علی امین گنڈاپور کی فتنہ الہندوستان کے خلاف لڑائی نہ لڑنے کی طویل ہسٹری بتائی۔ علی امین گنڈاپور کہتے ہیں، ہم طالبان سے بات چیت کرین گے۔ پی ٹی آئی آج بھی آپریشن کی مخالفت کر رہی ہے۔ خرم دستگیر نے کہا خیبر پختونخوا میں کوئی گروپ نہیں، وہاں پاکستان کے مخالف دہشتگرد ہم سے لڑ رہے ہیں۔
نادر آباد:2 مشکوک ملزمان گرفتار ، اسلحہ برآمد
خرم دستگیر نے کہا، آپریشن نہیں کرنا چاہتے تو خیبر پختونخوا کے 14ضلعوں میں ریاست کی رِٹ کیسے بحال ہو گی۔ خرم دستگیر نے بتایا کہ خیہبر پختونخوا میں علی امین گنڈاپور کی حکومت میں 12 سے 14 ضلعوں میں حکومت کی کوئی رِٹ باقی نہیں رہی۔
ایک شو میں تجزیہ نگار منیب فاروق نے کہا، محسن نقوی نے اب ٹویٹر پر آ کر جو ٹویٹ کی ہیں، "That tells alot"
سینئیر جرنلسٹ اور اینالسٹ نصرت جاوید نے ایک ٹاک شو میں کہا، محسن نقوی جیسے کول آپریٹر آج بولنے پر مجبور ہوئے۔ نصرت جاوید نے کہا، مھسن نقوی کے آج کے ٹویٹ کوآرڈینیٹڈ رسپانس کا حصہ ہیں۔
علیزے شاہ اور اداکارہ منسا ملک سوشل میڈیا پر آمنے سامنے
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔