چینی کمپنی بی وائی ڈی کا 2026 تک پاکستان میں اسمبل شدہ الیکٹرک کار متعارف کرانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
بیجنگ(نیوز ڈیسک) چین کی الیکٹرک گاڑیوں کی سب سے بڑی کمپنی بی وائی ڈی (BYD) نے اعلان کیا ہے کہ وہ جولائی یا اگست 2026 تک پاکستان میں اسمبل کی گئی اپنی پہلی گاڑی متعارف کروائے گی۔
رپورٹ کے مطابق بی وائی ڈی کمپنی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بدھ کے روز اس حوالے سے اعلان کیا جس کا مقصد پاکستان اور خطے میں بڑھتی ہوئی الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی طلب کو پورا کرنا ہے۔
بدھ کے روز روئٹرز کو بی وائی ڈی پاکستان کے سیلز اور سٹریٹجی کے نائب صدر دانش خالق نے بتایا کہ یہ پلانٹ اپریل سے کراچی کے قریب زیر تعمیر ہے، جو بی وائی ڈی کمپنی اور میگا موٹر کمپنی مل کر تعمیر کر رہے ہیں۔ میگا موٹر کمپنی، حب پاور کی ذیلی کمپنی ہے۔
نائب صدر برائے سیلز و اسٹریٹجی نے بتایا کہ پلانٹ ابتدائی طور پر ڈبل شفٹس میں سالانہ 25 ہزار یونٹس تیار کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ تاہم انہوں نے پلانٹ کی مکمل پیداواری صلاحیت یا بڑے پیمانے پر پیداوار کے آغاز کی تاریخ پر وضاحت نہیں کی۔
دانش خالق کا کہنا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں پلانٹ درآمد شدہ پرزوں کو اسمبل کرے گا جبکہ غیر الیکٹرک اجزاء کی کچھ مقامی پیداوار بھی کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں صرف پاکستانی مارکیٹ کے لیے گاڑیاں تیار کی جائیں گی، تاہم مستقبل میں خطے کے دیگر رائٹ ہینڈ ڈرائیو ممالک کو برآمدات بھی ممکن ہیں بشرط یہ کہ فریٹ لاگت اور تجارتی حالات سازگار ہوں۔
بی وائی ڈی نے مارچ 2025 میں پاکستان میں درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی شروع کی تھی۔ دانش خالق نے فروخت کی درست تعداد تو نہیں بتائی، لیکن کہا کہ چند سو گاڑیوں کی فروخت کمپنی کے اندرونی اہداف سے 30 فیصد زیادہ رہی۔
پاکستان میں پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں ایک زیادہ عملی انتخاب بنتی جارہی ہیں، کیونکہ ملک میں مکمل الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کی شدید کمی ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان میں بی وائی ڈی گاڑیوں کی
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔