پنجاب میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
پنجاب میں مون سون بارشوں کا پانچواں سلسلہ 28 جولائی سے شروع ہونے جا رہا ہے جو 31 جولائی تک جاری رہے گا۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق اس دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ کئی مقامات پر اربن اور فلیش فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ اور کمزور عمارتوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے بارشوں سے متاثر ہونے والے علاقوں میں مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خوشاب، سرگودھا، میانوالی، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد اور اوکاڑہ شامل ہیں۔ اسی طرح 29 سے 31 جولائی کے دوران ڈیرہ غازی خان، بھکر، بہاولپور، خانیوال، پاکپتن، وہاڑی، لودھراں، مظفرگڑھ اور راجن پور میں بھی بارشیں متوقع ہیں ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ایمرجنسی کنٹرول رومز اور ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر رسپانس ٹیموں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے انہوں نے بتایا کہ اس سال اب تک گزشتہ برس کے مقابلے میں 73 فیصد زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں جس کے باعث تمام متعلقہ محکموں کو مکمل طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ مری اور گلیات جیسے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچے اور خستہ حال مکانات کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔