راولپنڈی میں جرگے کے حکم پر قتل کی جانے والی لڑکی کی قبر کشائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
راولپنڈی میں جرگے کے حکم پر غیرت کے نام پر مبینہ طور پر قتل کی جانے والی لڑکی سدرہ کے مقدمے میں گرفتار 3 ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں گورکن راشد محمود، قبرستان کے سیکرٹری محمد سیف الرحمن اور خیال محمد شامل ہیں، جن کا جسمانی ریمانڈ 29 جولائی تک منظور کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی میں غیرت کے نام پر خاتون کا قتل، لرزہ خیز تفصیلات سامنے آگئیں
عدالت نے مقتولہ سدرہ کی قبر کشائی کے لیے 28 جولائی کی صبح 10 بجے کا وقت مقرر کرتے ہوئے مجسٹریٹ کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔
ڈی ایچ کیو اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ ٹی ایم اے افسران کو قبرستان میں ضروری انتظامات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق سدرہ کو مبینہ طور پر جرگے کے حکم پر گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا تھا، اور قتل کے بعد قبر کے تمام نشانات بھی مٹا دیے گئے تھے۔
مقتولہ کے ورثا کو بھی عدالت کی جانب سے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ راولپنڈی کے تھانہ پیرودہائی کی حدود میں واقع فوجی کالونی میں پیش آیا، جس میں ایک لڑکی سدرہ کے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جو کہ جرگے کے فیصلے کے تحت انجام دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے بلوچستان: غیرت کے نام پر قتل، ایف آئی آر میں کیا لکھا گیا؟
غیرت کے نام پر ہونے والے اس قتل کے سلسلہ میں راولپنڈی پولیس نے قبرستان کے گورکن اور قبرستان کمیٹی کے سیکرٹری کو باضابطہ گرفتار کر لیا ہے۔ جبکہ پولیس نے قبر کشائی (Exhumation) کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ قمر عباس تارڑ کی عدالت میں درخواست بھی دائر کر دی ہے۔
عدالت نے 26 جولائی کو سدرہ کے ورثاء کو طلب کر لیا ہے۔ اور ایس ایچ او پیرودہائی اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (TMA) کو قبر پر گارڈ تعینات کرنے کا حکم بھی دیا ہے تاکہ کوئی ثبوت ضائع نہ ہو۔ جس کے بعد سماعت 26 جولائی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
شوہر نے مقتولہ پر چوری کا مقدمہ درج کرایا، لاش چپکے سے دفن کردی گئییاد رہے کہ سدرہ کے شوہر ضیاء الرحمان کی مدعیت میں تھانہ پیرودہائی میں اغواء کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں سدرہ پر طلائی زیورات اور نقدی لے کر فرار ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ: غیرت کے نام پر قتل،جرگہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟
تاہم بعد ازاں اطلاعات سامنے آئیں کہ جرگے کے حکم پر سدرہ کو غیرت کے نام پر قتل کر کے خاموشی سے دفن کر دیا گیا۔
پولیس قبر کشائی کے بعد پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کرے گی۔ اگر سدرہ کا قتل ثابت ہو جاتا ہے تو قتل، جرگہ فیصلے، اور لاش کو چھپانے کے الزامات کے تحت سخت قانونی کارروائی متوقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غیرت کے نام پر قتل فوجی کالونی مقتولہ سدرہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: غیرت کے نام پر قتل فوجی کالونی مقتولہ سدرہ غیرت کے نام پر قتل جرگے کے حکم پر سدرہ کے قتل کی
پڑھیں:
کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف
— تصویر بشکریہ سوشل میڈیاکراچی کے علاقے اولڈ سٹی ایریا لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
اس حوالے سے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران 2 قدیم طرز کے مجسمے برآمد ہوئے ہیں، ملنے والی اشیاء کی ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے جانچ کرائی جائے گی۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ برآمد ہونے والے مجسموں کی عمر اور تاریخی اہمیت کا تعین ماہرین کریں گے، تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے برآمد اشیاء کی مکمل دستاویزات اور ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔
پاکستان اور فرانس کے درمیان آثار قدیمہ کے میدان میں تعاون ایک نئے سنگِ میل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سائنسی تعاون کے اتاشی نے کراچی میں انڈس بیسن (MAFBI) میں فرانسیسی مشن کے سربراہ ڈاکٹر اورور ڈیڈیئر سے ملاقات کی اور سندھ میں 2025 کے مشترکہ فیلڈ ورک سیزن کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران دریافت ہونے والی اشیاء کو محفوظ کر لیا گیا ہے، کے ایم سی شہر کے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے یہ بھی کہا ہے کہ لی مارکیٹ سے ملنے والی اشیاء کا سائنسی معائنہ کرایا جائے گا، تاریخی نوعیت کی دریافت پر مزید کھدائی احتیاط سے کی جا رہی ہے۔