چُن چُن کر سزائیں دی جا رہی ہیں، کوئی تو ہے جو خوفزدہ ہے، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
چُن چُن کر سزائیں دی جا رہی ہیں، کوئی تو ہے جو خوفزدہ ہے، علیمہ خان WhatsAppFacebookTwitter 0 26 July, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(آئی پی ایس )بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ کارکنوں کو چن چن کر سزائیں دی جا رہی ہیں، کوئی تو ہے جو خوفزدہ ہے۔
اپنی دونوں بہنوں کے ساتھ اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں آج توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت تھی۔ صبح 11 بجے سے ہم جیل کے باہر کھڑے رہے۔ پراسیکیوشن کے 8 سے 9 لوگ اندر جاتے ہیں۔ کیسے ہوسکتا ہے ایک وکیل اپنی ٹیم کے بغیر سماعت میں شامل ہو۔ 4 گھنٹے سے ہم جیل کے باہر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیئر ٹرائل کیسے ہوگا جب وکلا کو اندر نہیں جانے دیں گے۔ جج صاحب نے کہا فیملی اور وکلا کو اندر آنے دیں۔ 26 ویں ترمیم کے اثرات اب آپ لائیو دیکھ سکتے ہیں۔ ججز کے احکامات کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی وجہ سے جج بھی بے بس ہیں۔ انصاف کا نظام اور ججز بے بس ہوچکے ہیں۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے بانی نے کہا ہے کہ تحریک شروع کریں۔ ان کو یہ ڈر ہے کہیں تحریک نہ چلے۔ بانی نے کہا ہے عوام اپنے حق کے لیے کھڑے ہوں۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو چن چن کے سزائیں دی جارہی ہیں، کوئی تو ہے جو ڈرا ہوا ہے۔ میرے وکلا نے مجھے کہا آپ کی بیل لینی ہے آپ کو گرفتار کیا جائے گا۔
عمران خان کی بہن نے کہا کہ ہمیں خوفزدہ لوگوں سے کوئی ڈر نہیں۔ ان کو خوف ہے بانی کا ایک لفظ بھی باہر نہ آئے۔ بانی بار بار 9 مئی کے واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کا مطالبہ کررہے ہیں۔ عوام کو اپنی آزادی کے لیے اب خود نکلنا پڑے گا۔ ہمیں انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ بانی باہر آئے گا تو تحریک چلے گی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی نے لائحہ عمل دینا ہے، لوگوں نے خود نکلنا ہے۔ 5 اگست جب آئے گا تو دیکھا جائے گا۔ شکوک شبہات کی کوئی بات نہیں۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے سب نکلیں گے۔ پلان بنا ہوا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین عالمی مصنوعی ذہانت کے میدان میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، ٹورنگ ایوارڈ یافتہ اسکالر فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا انجام عبرتناک موت ہے: محسن نقوی، سرفراز بگٹی عمران خان سیاست میں آنے سے پہلے چندے کیلئے میرے پاس آتے تھے: اسحاق ڈار پی ڈی ایم اے پنجاب کا مون سون الرٹ جاری،پانچواں اسپیل 28 جولائی سے شروع ہوگا امریکا کی ایران سے متعلق مذاکرات میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف عمران خان کے عزیزوں سے خطرات، جمائمہ نے قاسم اور سلیمان کو ایک مرتبہ پھر پاکستان جانے سے روک دیا ہر شہری مغرب کی طرح نظام میں اپنا کردار ادا کرے، تحریکِ انقلاب کے بانی کا عوام کو پیغامCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کوئی تو ہے جو علیمہ خان نے کہا کہا ہے
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔