اسلام آباد میں گدھے کا گوشت فروخت ہونے کا انکشاف، 25 من گوشت، 60 زندہ گدھے برآمد
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
اسلام آباد کے علاقے ترنول میں گدھے کے گوشت کی فروخت کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے جس پر فوڈ اتھارٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے غیرملکی ملزم کو گرفتار کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ترنول میں ایک غیر ملکی شہری کے فارم ہاؤس میں گدھوں کو ذبح کر کے ان کا گوشت فروخت کیا جارہا تھا جس پر اسلام آباد فوڈ اتھارٹی نے مذکورہ فارم ہاؤس پر چھاپہ مارا۔
یہ بھی پڑھیے: حکومت جواب دے کہ ملک میں گدھیوں کی تعداد کیوں نہیں بڑھ رہی؟ جنید اکبر کا قومی اسمبلی میں سوال
چھاپے کے دوران فارم ہاؤس سے تقریباً 60 زندہ گدھے برآمد کیے گئے جبکہ 25 من تیار گوشت بھی ملا جسے موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ فارم پر موجود گدھوں کو حکام نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
فوڈ اتھارٹی کے چھاپے کے وقت پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی، نامعلوم غیر ملکی ملزم کو گرفتار کرکے تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر اسلام آباد فوڈ اتھارٹی ڈاکٹر طاہرہ صدیق نے کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ گوشت ممکنہ طور پر بیرونِ ملک سپلائی کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سپلائی چین اور اس نیٹ ورک کے دیگر افراد کا سراغ لگانے کے لیے تفتیش جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چھاپہ فارم ہاؤس فوڈ اتھارٹی گدھے گدھے کا گوشت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چھاپہ فارم ہاؤس فوڈ اتھارٹی گدھے گدھے کا گوشت فوڈ اتھارٹی اسلام آباد فارم ہاؤس
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔