ویب ڈیسک: نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے پاکستان امریکا کے ساتھ مضبوط تعلقات چاہتا ہے لیکن ان تعلقات کو چین کے ساتھ دوستی کے تناظر میں نہ دیکھا جائے۔

 نیو یارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا حکومتی کوششوں کی بدولت معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے، ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، 3 سال کی مدت میں معاشی اشاریوں میں بہتری لائے، جی ڈی پی گروتھ میں نمایاں بہتری آئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

بھارت: مندر میں بھگدڑ مچنے سے6 افراد ہلاک،متعددزخمی  

 ان کا کہنا تھا ملک میں معاشی استحکام آچکا ہے، منہگائی کی شرح میں نمایاں حد تک کمی ہوچکی ہے، تمام عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی بہتری کے معترف ہیں، ہمارا ہدف پاکستان کو جی 20 میں شامل کرنا ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ تحریک عدم اعتماد ایک مشکل فیصلہ تھا جو ہم نے ملک کی خاطر کیا تھا، پی ٹی آئی حکومت مزید 6 ماہ رہتی تو ملک ڈیفالٹ کرچکا ہوتا، ہم نے ڈیفالٹ کے خطرے کو دفن کردیا ہے۔

کیا روزانہ چلنے سے زندگی کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے؟

 اسحاق ڈار نے کہا کہ سفارتی سطح پر بھی اس وقت پاکستان بہت متحرک ہے، پاکستان سفارتی سطح پر تقریباً آئیسولیٹ ہو چکا تھا، کوئی بھی ہمارے پاس نہیں آتا تھا اور نا ہی ہمیں کوئی بلاتا تھا لیکن آج ہم دنیا بھر میں متحرک ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ تقریباً 9 سال بعد پاکستان اور امریکا کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں دو طرفہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو سے کہا پاکستان امریکا کے ساتھ مضبوط تعلقات چاہتا ہے لیکن ان تعلقات کو پاک چین شراکت داری کے تناظر میں نہ دیکھا جائے۔

بارش سے متاثرہ فی خاندان 10 لاکھ روپے امداد کا اعلان  

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار