ممبئی :بالی وڈ کے میگا اسٹارعامر خان، جو بھارتی فلمی دنیا کے سب سے محنتی اور نفیس اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں، ایک ایسی خصوصیت رکھتے ہیں جو ان کو دوسروں سے منفرد بناتی ہےاور وہ ہے مالی معاملات میں ان کی حیران کن بے فکری۔
جہاں عام سیلیبرٹیز ہر رقم کی گنتی اور ہر سودے کی باریکیوں میں الجھے ہوتے ہیں، وہیں عامر خان مکمل طور پر اپنے مالی حالات سے بے خبر ہیں۔
حال ہی میں ایک انٹرویو میں عامر خان نے کھل کر کہا، ”اگر آپ مجھے ابھی پوچھیں کہ میرے پاس کتنے پیسے ہیں، تو میں سچ بتاؤں تو جواب نہیں دے پاؤں گا!“
یہی نہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ ان کے پیسے کہاں لگائے گئے ہیں۔ جب بات چیت کے دوران پوچھا گیا کہ وہ نفع میں ہیں یا نقصان میں، تو عامر نے ہنس کر جواب دیا،”یہ بھی مجھے نہیں معلوم!“
تو پھر یہ مالی معاملات کون سنبھالتا ہے؟ عامر نے بتایا کہ ”میرا ایک بندہ ہے، اس کا نام ومل پریکھ ہے۔“ ومل، ان کا قابل اعتماد چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہے جو ان کے کیریئر کے آغاز سے ان کے ساتھ ہیں۔
عامر نے اسے بڑے پیار اور تھوڑے طنزیہ انداز میں بیان کیا،وہ میری سوتیلی ماں ہے۔ وہ ماں ہے کیونکہ وہ میری بہت فکر کرتا ہے لیکن سوتیلی ہے کیونکہ بہت ٹارچر کرتا ہے۔“
عامر کے لیے ومل ان کے مالی سلطنت کے دربان ہیں۔ ”میرا پیسہ پورے کا پورا وہی سنبھالتا ہے۔ مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ پیسوں کے ساتھ کیا کرتا ہے،“ عامر نے تسلیم کیا۔
اور اعتماد اس حد تک گہرا ہے کہ عامر نے کھلے عام کہا، ”اگر ومل آج مجھے دیوالیہ کرنا چاہے، تو وہ ایک سیکنڈ میں کر دے گا۔ اور میں اسے روک بھی نہیں پاؤں گا۔“
یہ سچائی اور خود اعتمادی ہی ہے جو عامر خان کو عام سیلیبریٹیز سے الگ کرتی ہے۔ ایک ایسا آدمی جو اپنی سادگی، ایمانداری اور مکمل مالی بے نیازی کے ساتھ فلمی دنیا کی چمک دمک کے بیچ اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔
ان کے نزدیک کامیابی اور دولت کے علاوہ بھی زندگی کے کئی پہلو ہیں جنہیں سنبھالنا ضروری ہے اور شاید یہی ان کی سب سے بڑی دولت ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا