پی ایس بی نے اسپورٹس فیڈریشنز کیلئے نئے قواعد و ضوابط نافذ کردیے
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اسلام آباد:پاکستان اسپورٹس بورڈ نے اسپورٹس فیڈریشنز کے لیے نئے قواعد و ضوابط نافذ کردیے۔
نیشنل سپورٹس پالیسی 2005 کے تسلسل میں بنائے گئے یہ ٹرم رولز 2025 چھ شقوں اور چوبیس ذیلی شقوں پر مشتمل ہیں جو فوری طور پر نافذ العمل ہیں، فیڈریشنز کو اپنی ساخت ان رولز کے مطابق ہم آہنگ کرنے کیلئے 90 روز کی مہلت دی گئی ہے۔
نئے رولز کے مطابق فیڈریشنز میں صدر کا عہدہ سب سے اعلیٰ تصور ہوگا، چیئرمین، سی ای او یا کوئی متبادل عہدہ قابل قبول نہیں ہوگا، کسی بھی فرد کیلئے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 70 سال مقرر کی گئی ہے جس کے بعد عہدہ خود بخود ختم تصور ہوگا، کوئی فرد ایک وقت میں ایک سے زائد فیڈریشنز میں عہدہ نہیں رکھ سکے گا۔
نئے رولز کے تحت عہدیدار فیڈریشن میں 4 سال کی دو مدتوں تک خدمات انجام دے سکے گا، کوئی بھی عہدیدار اعلیٰ عہدے کے بعد پچھلے درجے پر الیکشن نہیں لڑ سکے گا، دوران مدت خالی ہونے والے عہدے کو انتخاب کے ذریعے پر کیا جائے گا۔ یہ دور باقی ماندہ مدت سمجھی جائے گی، جو آٹھ سالہ حد میں شامل ہوگی۔
ان رولزکی خلاف ورزی کی صورت میں ڈی جی پی ایس بی تحقیقات کا مجاز ہوگا، خلاف ورزی ثابت ہونے پر عہدیدار پر4 سے 6 سال کی پابندی عائد ہوسکتی ہے۔ پابندی کے دوران مالی معاونت، گرانٹس، سہولیات، مشاورتی کردار یا رکنیت سمیت کسی فائدے کا اہل نہیں ہوگا۔
خلاف ورزی کو نظرانداز کرنے پر ڈی جی حکومت کو قانونی یا انتظامی کارروائی کی سفارش کر سکتا ہے، بار بار خلاف ورزی پر تاحیات نااہلی کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پی ایس بی ڈیٹا بیس تیاری، اپنی ویب سائیٹ پر نااہل افراد کی فہرست شائع کرنے کا پابند ہوگا، فیصلے سے متاثرہ افراد پینل آف ایڈجوڈیکیٹر میں تحریری اپیل دائر کر سکتے ہیں، اپیلیں “کوڈ آف ایتھکس اینڈ گورننس ان اسپورٹس” کی متعلقہ شقوں کے تحت نمٹائی جائے گی، عدم تعمیل کی صورت میں فیڈریشنز کی رجسٹریشن منسوخ اور فنڈنگ روک دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خلاف ورزی
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔