’آئیز آف واکانڈا‘ کا جادو چھا جائے گا! نئی اینی میٹڈ سیریز کی ریلیز یکم اگست کو ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
مارول کے دیوانوں کے لیے خوشخبری! Disney+ پر جمعہ کو مارول کی نئی اینیمیٹڈ سیریز ’آئیز آف واکانڈا (Eyes of Wakanda) ‘ ریلیز ہونے جا رہی ہے۔یہ سیریز ایکشن، راز اور تھرل کی بھرمار ہے۔
اس شاندار سیریز کی خاص بات؟
وِنی ہارلو سمیت کئی معروف فنکاروں کی آوازیں۔ جی ہاں، ماڈل سے اداکارہ بنی وِنی ہارلو نے بھی کمال کی ڈبنگ کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی فلم’نیژا 2′ اینیمیٹڈ فلم باکس آفس میں پہلے نمبر پر
سیریز کی کہانی گھومتی ہے واکانڈا کے خفیہ جاسوسوں کے گرد، جنہیں دنیا ’وار ڈاگز‘ کے نام سے جانتی ہے۔ یہ بہادر لوگ دنیا بھر میں بکھرے وائبری نیم کے طاقتور اور پراسرار ٹکڑوں کو ڈھونڈنے کے مشن پر نکلتے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سیریز اب جلدی آ رہی ہے۔ اصل میں تو اسے 6 اگست یا پھر 27 اگست کو آنا تھا، لیکن Disney+ والوں نے فینز کو سرپرائز دینے کے لیے اس کی ریلیز جمعہ یکم اگست کو کر دی ہے۔
4 اقساط پر مشتمل یہ سیریز مارول کے Black Panther دنیا میں ایک نیا رنگ بھرے گی، جہاں ماضی کے رازیہ مشن اور ایکشن سے بھرپور مہم جوئی آپ کا انتظار کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Eyes of Wakanda آئیز آف واکانڈا اینیمیٹڈ سیریز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اینیمیٹڈ سیریز
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔