جرگے کے حکم پر قتل کی جانے والی خاتون سدرہ کی لاش کو قبرستان منتقل کرنے والے رکشہ ڈرائیور کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ  گورگن اور سیکریٹری قبرستان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شادی شدہ خاتون کی لاش منتقلی کے دوران استعمال ہونے والا رکشہ برآمد کرلیا ہے، جو ملزم خیال محمد کی نشاندہی پر برآمد ہوا ہے۔ ملزم نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ اس نے خاتون کی لاش رکشے میں ڈال کر قبرستان منتقل کی۔

یہ بھی پڑھیں: غیرت کے نام پر 17 سالہ سدرہ کے قتل میں ملوث والد، بھائی اور سابق شوہر نے اعتراف جرم کرلیا

پولیس کے مطابق ملزم نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ رکشہ جرگے کے سربراہ کی ہدایت پر منگوایا گیا تھا تاکہ خاتون کی لاش کو ایک خفیہ جگہ پر منتقل کیا جاسکے اور یہی عمل کیا گیا۔

دوسری جانب پولیس نے برآمد شدہ رکشے کو تھانہ پیرودھائی منتقل کر دیا ہے اور ملزم خیال محمد کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں لے لیا ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ 12 جولائی کو آزاد کشمیر کے شہر مظفر آباد میں پیش آیا، جہاں مقتولہ کا عثمان کے ساتھ نکاح ہوا تھا۔ مقتولہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اپنے نکاح کی مرضی کا بیان دیا تھا اور اس بات کا بھی انکشاف کیا تھا کہ اس کا پہلا شوہر اسے زبانی طور پر طلاق دے چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نوشہرو فیروز میں لڑکی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کیس میں جرگے کا کیا کردار رہا؟

عثمان کے والد نے بتایا کہ نکاح کے صرف 4 دن بعد مسلح افراد نے آکر دھمکیاں دیں اور کہا کہ چونکہ نکاح ہوچکا ہے، اب لڑکی کو واپس کردو اور اسے باضابطہ رخصت کیا جائے گا۔ ان افراد نے خاتون کو اپنے ساتھ لے لیا، بعد میں یہ معلوم ہوا کہ اسے قتل کردیا گیا ہے۔

 پولیس نے کارروائی شروع کی اور خاتون کی لاش منتقل کرنے والے رکشے کو برآمد کرتے ہوئے ملزم کو بھی گرفتار کرلیا، دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خاتون کی لاش

پڑھیں:

افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 

کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے  ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا