لگتا ہے زائرین پر پابندی کا فیصلہ کہیں اور سے مسلط کرایا گیا ہے، علامہ رمضان توقیر
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
ایس یو سی کے مرکزی نائب صدر کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر سیکورٹی مسائل پاکستان حکومت نہیں سنبھال سکتی تو واضح کرے، ہم طالبان حکومت سے بھی رابطہ کر کے زائرین کے لئے افغانستان کا راستہ مانگ سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی نائب صدر شیعہ علماء کونسل علامہ محمد رمضان توقیر نے قافلہ سالاروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اربعین کے موقع پر ایران عراق جانے والے زائرین کیلئے زمینی راستوں کو بند کرنا حکومت کا غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ کوٹلی امام حسین علیہ السلام ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک پریس کانفرنس میں شریک زائرین سالاروں کے ہمراہ انہوں نے مزید کہا کہ ایران، عراق اور پاکستان کے وزراء خارجہ کی ملاقات کے موقع پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستانی زائرین کو زمینی راستے کے زریعے ایران عراق داخلے کی مکمل اجازت ہو گی مگر پاکستانی وزیر داخلہ کا اچانک یہ بیان سامنے آنا کہ اربعین کے لئے زمینی راستے بند کر دئیے گئے ہیں، حیران کن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ مسلط کرایا گیا ہے کیونکہ حال ہی میں پاکستان کے وزیراعظم نے امریکہ کا دورہ بھی کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سیکورٹی مسائل پاکستان حکومت نہیں سنبھال سکتی تو واضح کرے، انہوں نے کہا کہ ہم طالبان حکومت سے بھی رابطہ کر کے زائرین کے لئے افغانستان کا راستہ مانگ سکتے ہیں، ہم واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ ہم کسی صورت اربعین کے لئے زمینی راستوں کی بندش قبول نہیں کریں گے۔ اس موقع پر قافلہ سالاروں نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں اور دو ٹوک بتا دیا کہ ہر حال میں اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، بصورت دیگر ہم ملک گیر احتجاج کریں گے، جو ہمارا آئینی اخلاقی اور قانونی حق ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کے لئے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔