مرڈوک اور وال اسٹریٹ جرنل مقدمہ نمٹانے کے خواہشمند ہیں، ٹرمپ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وال اسٹریٹ جرنل اور اس کے ارب پتی مالک روپرٹ مرڈوک ان کے خلاف دائر ہتکِ عزت کے مقدمے کو طے کرنے کے لیے رابطے میں ہیں۔
ٹرمپ نے 18 جولائی کو وال اسٹریٹ جرنل اور اس کے مالکان کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ مقدمے کی بنیاد ایک متنازع رپورٹ ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کو سالگرہ کی مبارکباد دی، جس میں ایک جنسی نوعیت کی تصویر اور کچھ خفیہ اشارات بھی شامل تھے۔
ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’وال اسٹریٹ جرنل نے میرے ساتھ بہت برا سلوک کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مرڈوک اسے کنٹرول کرتے ہیں، شاید کرتے ہوں، شاید نہ کرتے ہوں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’وہ ہمارے ساتھ کچھ معاملہ طے کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ شاید وہ چاہتے ہیں کہ ہم مقدمہ واپس لے لیں، لیکن دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب ان کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو وہ خاموش نہیں بیٹھتے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایپسٹین کو دی گئی سالگرہ کی مبارکباد جعلی ہے اور یہ خبر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی نیت سے شائع کی گئی۔
پیر کو عدالت میں دائر ایک درخواست میں ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ روپرٹ مرڈوک کا فوری بیان ریکارڈ کیا جائے۔ دوسری جانب، وال اسٹریٹ جرنل نے اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وال اسٹریٹ جرنل
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔