امانت گشکوری: طلاق یافتہ بیٹی کو پنشن دینے کے حوالے سے سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ ،سپریم کورٹ نے والد کی وفات کے بعد طلاق یافتہ بیٹی کو پنشن نہ دینے کا سرکلر کالعدم قرار دے دیا.

تفصیلات کےمطابق جسٹس عائشہ ملک نے 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا، ریمارکس میں سپریم کورٹ نے کہا بیٹی کی پنشن شادی کی حیثیت پر نہیں حق کی بنیاد پر دی جائے گی، بیٹی کی پنشن کے لئے والد کی وفات سے پہلے یا بعد کا معاملہ غیر متعلقہ ہے۔

پھپھو کی خواہش پوری نہ ہوسکی بھتیجے پاکستان نہیں آ رہے:عظمیٰ بخاری

سپریم کورٹ کا فیصلے میں کہنا تھا کہ پنشن خیرات نہیں ، سرکاری ملازم کا قانونی حق ہے،عدالت عظمیٰ نے والد کی وفات کے بعد طلاق یافتہ بیٹی کو پنشن نہ دینے کا سرکلر کالعدم قرار دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پنشن کا حق اہلخانہ کو منتقل ہوتا ہے اور اس میں تاخیر جرم ہے،خواتین کی پنشن کا انحصار صرف مالی ضرورت پر ہونا چاہیے شادی کی حیثیت پر نہیں۔

سندھ حکومت کا 2022 کا امتیازی سلوک والا سرکلر غیر قانونی ہے،پنشن خیرات یا بخشش نہیں بلکہ آئینی اور قانونی حق ہے،پاکستان بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کے باوجود صنفی مساوات میں بدترین رینکنگ پر ہے،پاکستان کا صنفی مساوات میں 148 ممالک میں سے آخری نمبر ہے۔

مودی سرکار کاایک اور نام نہاد فالس فلیگ’’آپریشن مہادیو‘‘ بری طرح بے نقاب   

درخواست گزار صورت فاطمہ نے والد کی پنشن دوبارہ شروع کرنے کی درخواست دی تھی، سندھ ہائیکورٹ لاڑکانہ بینچ  نے درخواست منظور کی تھی

سندھ ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف سندھ حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: طلاق یافتہ بیٹی کو پنشن سپریم کورٹ کورٹ کا والد کی کی پنشن

پڑھیں:

دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس  ہوا جس دوران  دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ  ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔

کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔

وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ