خیبرپختونخوا، بیوروکریسی سے دفعہ 144 اور کرفیو لگانے کے اختیارات واپس لینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہدایت جاری کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ کرفیو اور دفعہ 144 کا نفاذ نہ کرے
۔۔۔۔۔۔۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا (کے پی) علی امین گنڈاپور نے بیورو کریسی کے اختیارات محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے بیوروکریسی سے دفعہ 144 کے نفاذ اور کرفیو نافذ کرنے کے اختیارات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہدایت جاری کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ کرفیو اور دفعہ 144 کا نفاذ نہ کرے، دفعہ 144 اور کرفیو کانفاذ صوبائی محکمہ داخلہ کی اجازت سے مشروط ہوگا۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ایکشن اینڈ ایڈ آف سول پاور قانون بھی اسمبلی میں پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سیکیورٹی کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے باجوڑ میں 3 دن کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا، کرفیو تحصیل لوئی ماموند میں نافذ کیا گیا تھا، جس کا ضلعی انتظامیہ نے اعلامیہ جاری کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
اسلام آباد میں وزیر داخلہ اور گورنر کے پی کے نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات ہوئی۔ دونوں راہنماؤں کے درمیاں ملاقات میں خیبر پختونخوا میں امن عامہ کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشتگردی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے وفاقی وزیر داخلہ آگاہ کیا۔ وزیر داخلہ اور گورنر کے پی کے نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قیام امن کیلئے سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبہ خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔