جنوبی وزیرستان اپر میں کرفیو نافذ کردیا گیا، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
ڈپٹی کمشنر عصمت اللہ وزیر نے کہا کہ جنوبی وزیرستان اپر کے تمام بازار، مارکیٹس اور تجارتی مراکز کل مکمل طور پر بند رہیں گے، جبکہ سراروغہ، کوٹکائی، سپینکئی راغزئی تا نظر خیل تک تمام راستے کرفیو کے دوران بند رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اپر جنوبی وزیرستان ضلع بھر میں دوسرے روز بھی کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ جنوبی وزیرستان اپر کرفیو کے دوران ضلع بھر میں تمام قسم کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی رہے گی۔ ڈپٹی کمشنر عصمت اللہ وزیر نے کہا کہ جنوبی وزیرستان اپر کے تمام بازار، مارکیٹس اور تجارتی مراکز کل مکمل طور پر بند رہیں گے، جبکہ سراروغہ، کوٹکائی، سپینکئی راغزئی تا نظر خیل تک تمام راستے کرفیو کے دوران بند رہیں گے۔ اس کے علاوہ درگئی پل، مدی جان، شین ورسک تا مولا خان سرائے و چگملائی تک نقل و حرکت پر سخت پابندی ہوگی اور سرویکئ تا مولے خان سرائے اور بروند کی جانب راستے کرفیو کے دوران بند رکھے جائیں گے۔
تیارزہ تا توروام کے تمام راستے کرفیو کے دوران بند رہیں گے۔ صرف ایمرجنسی میں پولیس یا فورسز کی اجازت سے، شناختی کارڈ اور کاغذات جمع کروا کر سفر ممکن ہوگا۔ سیکیورٹی فورسز کی گاڑی دیکھ کر شہری اپنی گاڑی 100 میٹر فاصلے پر سڑک سے نیچے اتارنے کے پابند ہوں گے۔ نوٹی فکیشن میں ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک سے سفر کرنے والے شہریوں کو 28 جولائی کو ضلع آمد سے گریز کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: راستے کرفیو کے دوران بند جنوبی وزیرستان اپر بند رہیں گے
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔