باجوڑ میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن، علی امین گنڈاپور کی مخالفت، ڈی سیز سے کرفیو کا اختیار واپس
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں دہشتگردی کے خلاف عسکری آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے، تاہم وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے آپریشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرز سے کرفیو نافذ کرنے کا اختیار واپس لے لیا ہے۔
تحصیل لوئی ماموند کے 16 دیہات میں ڈپٹی کمشنر نے 31 جولائی تک کرفیو نافذ کیا تھا، جس کے دوران آپریشن جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے اقدامات عوامی اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: باجوڑ میں دہشتگردی کیخلاف ہزاروں شہری سڑکوں پر آگئے
پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ آئندہ کسی علاقے میں کرفیو یا دفعہ 144 محکمہ داخلہ کی منظوری کے بغیر نافذ نہیں ہوگی۔ انہوں نے قبائلی اضلاع میں امن جرگوں کے انعقاد کا اعلان بھی کیا، جن کی سفارشات سیکیورٹی پالیسیوں پر نظرِثانی کے لیے پیش کی جائیں گی۔
علی امین نے ’ایکشن ان ایڈ آف سول پاور‘ قانون پر بھی تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اسے اسمبلی میں زیرِ بحث لانے کا عندیہ دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خیبر پختونخوا دفعہ 144 دہشتگردی ضلع باجوڑ عسکری آپریشن علی امین گنڈاپور کرفیو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا دہشتگردی ضلع باجوڑ علی امین گنڈاپور کرفیو علی امین
پڑھیں:
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
امریکا میں آپریشن چیک میٹ کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔
خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔
سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔