فلسطینی عوام کی آزاد ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، چین کا واضح مؤقف
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
چین نے اس بات پر زود دیا ہے کہ فلسطین کے مسئلے کا واحد اور پائیدار حل 2 ریاستی فارمولے پر عمل درآمد ہے، اس مقصد کے لیے چین فلسطینی عوام کی آزاد ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیراعظم نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مشروط اعلان کردیا
بدھ کے روز بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے کہا کہ چین غزہ میں جاری صورتحال پر گہری تشویش رکھتا ہے اور اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیوں میں اضافے کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کرتے ہیں کیونکہ فلسطینی مسئلے کا واحد حل دو ریاستی حل ہی ہے۔‘
ترجمان نے بتایا کہ غزہ میں انسانی بحران دن بہ دن شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال غذائی قلت سے 74 اموات ہوئیں، جن میں سے 63 صرف جولائی میں رپورٹ ہوئیں، جن میں 25 بچے شامل تھے۔
گو جیاکن نے متعلقہ فریقین، بالخصوص اسرائیل، سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر غزہ میں فوجی کارروائیاں بند کرے، محاصرہ ختم کرے اور انسانی امداد کی مکمل رسائی کو بحال کرے تاکہ ایک بڑے انسانی المیے کو روکا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر امن ممکن نہیں، سعودی وزیر خارجہ کا اقوام متحدہ میں دوٹوک مؤقف
انہوں نے کہا کہ چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر نہ صرف غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے کوششیں کرنے پر تیار ہے بلکہ 2 ریاستی حل پر عمل درآمد کو یقینی بنا کر مسئلہ فلسطین کا جامع، منصفانہ اور پائیدار حل نکالنے کے لیے بھی پرعزم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آزاد فلسطینی ریاست اسرائیل جنگ بندی چین غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا زاد فلسطینی ریاست اسرائیل چین فلسطین ریاست کے قیام کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔