لاورا ڈاہل مائر پاکستان میں کوہ پیمائی کے دوران جان گنوا بیٹھیں، انوکھی وصیت کیا تھی؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
جرمنی کی معروف اولمپک بیائتھلون چیمپیئن لاورا ڈاہل مائر پاکستان کے شمالی پہاڑی سلسلے قراقرم میں کوہ پیمائی کے دوران پیش آنے والے حادثے میں جان گنوا بیٹھیں۔
یہ بھی پڑھیں: کےٹو پر مہم جوئی کے دوران پاکستانی کوہ پیما جاں بحق، غیر ملکی محفوظ رہے
بی بی سی کے مطابق حادثہ 28 جولائی کو پیش آیا تھا جب وہ اپنی ساتھی مارینا ایوا کے ہمراہ تقریباً 5،700 میٹر (18،700 فٹ) کی بلندی پر چڑھائی کر رہی تھیں اور پتھروں کے اچانک گرنے کی زد میں آ گئیں۔
ریسکیو آپریشن ناکام، موت کی تصدیقمارینا ایوا نے فوری طور پر ہنگامی خدمات کو اطلاع دی جس کے بعد جرمنی اور امریکا سے ماہر کوہ پیماؤں پر مشتمل ٹیمیں امدادی مشن پر روانہ ہوئیں۔
تاہم مسلسل خراب موسم، برفباری اور دھند کے باعث سرچ آپریشن میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
مزید پڑھیے: غیرملکی خاتون کوہ پیما نانگا پربت سر کرنے کی مہم میں ہلاک، لاش کی تلاش جاری
ڈاہل مائر کی مینجمنٹ کمپنی نے بدھ کے روز ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا مگر بالآخر 29 جولائی کی شام کو اسے ختم کر دیا گیا۔ اندازہ ہے کہ لاورا کی موت حادثے کے روز ہی 28 جولائی کو ہی ہو گئی تھی۔
آخری خواہش: ’میرا جسم پہاڑ پر ہی رہنے دیا جائے‘ان کی ٹیم کے مطابق یہ لاورا ڈاہل مائر کی تحریری وصیت تھی کہ اگر کوہ پیمائی کے دوران ایسا کوئی حادثہ پیش آئے تو ان کی لاش واپس لانے کے لیے کسی کی جان کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
ان کی خواہش تھی کہ ایسی صورت میں ان کا جسم پہاڑ پر ہی چھوڑ دیا جائے۔ ان کے اہلخانہ بھی اس فیصلے سے متفق ہیں۔
خراج عقیدتجرمن اولمپک اسپورٹس کنفیڈریشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ لاورا صرف ایک اولمپک چیمپییئن نہیں تھیں بلکہ وہ دل، جذبے اور وژن کی علامت تھیں۔
بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی صدر کیرسٹی کووینٹری نے کہا کہ یہ خبر ہم سب کے لیے انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی محبوب پہاڑیوں میں زندگی سے محروم ہوئیں لیکن وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ لاورا پوری دنیا میں ہمارے ملک کی سفیر تھیں اور بین الاقوامی برادری میں امن، خوشی اور باہمی احترام کی مثال تھیں۔
لاورا ڈاہل مائر کی عمر 31 سال تھی۔ انہوں نے سنہ2018 کے پیونگ چانگ سرمائی اولمپکس میں 2 طلائی اور ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ وہ پہلی خاتون بنیں جنہوں نے ایک ہی اولمپکس میں اسپرنٹ اور پرسوئیٹ دونوں ایونٹس جیتے۔
انہوں نے عالمی چیمپئین شپ کے 5 مقابلوں میں 15 تمغے جن میں 7 طلائی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: اشرف صدپارہ سمیت پاکستان کے 5 کوہ پیماؤں نے نانگا پربت کو سر کرلیا
وہ مئی 2019 میں بین الاقوامی مقابلوں سے علیحدہ ہوگئی تھیں جس کے بعد انہوں نے کوہ پیمائی اور ماحولیاتی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینا شروع کیا تھا۔
آخری سفرلاورا کی موت نے دنیا بھر کے کھیلوں کے حلقوں خصوصاً اولمپک کمیونٹی میں غم کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان کی یاد میں مختلف جرمن شہروں میں تقریباتِ خراج عقیدت کا انعقاد متوقع ہے۔
اختتامی پیغاملاورا ڈاہل مائر ان گنے چنے کھلاڑیوں میں شامل تھیں جنہوں نے کھیل کو صرف میدان تک محدود نہ رکھا بلکہ اپنی شخصیت، فطرت سے محبت اور آخری لمحے تک اپنی اقدار کے ساتھ جڑے رہنے سے دنیا کو متاثر کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اولمپک چیمپیئن لاورا ڈاہل مائر جرمن کوہ پیما لاورا ڈاہل مائر جرمن کوہ پیما ہلاک کوہ پیما لاورا ڈاہل مائر ہلاک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جرمن کوہ پیما ہلاک کوہ پیما کوہ پیمائی کے دوران انہوں نے کوہ پیما
پڑھیں:
لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
لاہور:پنجاب کے بیشتر اضلاع میں گزشتہ 4 روز کے دوران ریکارڈ مون سون بارشیں ہوئیں جس کے حوالے سے پی ڈی ایم اے نے رپورٹ جاری کر دی۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ 383 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ گجرانوالہ میں 328، سیالکوٹ میں 321، نارووال میں 270، مری میں 211، منڈی بہاءالدین میں 177، گجرات میں 144 اور جہلم میں 115 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ ہوئی۔
حافظ آباد میں 108، منگلا میں 102، چکوال میں 96، شیخو پورہ میں 85، اوکاڑہ میں 72، جھنگ میں 66، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 57، اٹک میں 56، قصور میں 52، راولپنڈی میں 47، لیہ میں 35 اور ساہیوال میں 34 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
https://www.facebook.com/weathergurru/videos/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%D8%B4%DB%81%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%DB%92-%D8%B1%D9%88%D8%B2-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%AF%D8%B2%D8%B4%D8%AA%DB%81-5-%DA%AF%DA%BE%D9%86%D9%B9%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%84%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%A7%D8%B1-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%B4-%D8%AC%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DB%81%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%DA%A9/1021946020620146/فیصل آباد، سرگودھا، ڈیرہ غازی خان، خانیوال، بہاولنگر اور بھکر میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی۔
مزید پڑھیںلاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
لاہور میں موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
وزیر اعلی مریم نواز کی ہدایت پر دریاوں ڈیمز اور بیراجز کی مسلسل نگرانی کا عمل بھی جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کے اقدامات کی بدولت پنجاب کے شدید بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریکارڈ مدت میں نکاسی آب کی گئی۔ 41 اضلاع میں واسا کے قیام، ایک ہزار سے زائد مشینری، عملے کی موجودگی سے ہفتوں کے بجائے گھنٹوں میں بارشی پانی صاف کر دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر مون سون بارشوں کے پیش نظر پنجاب کے تمام متعلقہ شہروں کی سیف سٹی کیمروں سے نگرانی جاری ہے۔