سیاسی جماعتیں آئین کی بالادستی یا اقتدار بچانے کا فیصلہ کریں: لشکری رئیسانی
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
لشکری رئیسانی—فائل فوٹو
سابق سینیٹر لشکری رئیسانی نے کہا کہ ہم کئی اے پی سیز کر چکے، مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا، سیاسی جماعتیں آئین کی بالادستی یا اقتدار بچانے کا فیصلہ کریں۔
اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اختیار کے بغیر اقتدار بے سود ہے، آج ملک شدید بحران کا شکار ہے، سہولت کار بھی اس بحران کے ذمے دار ہیں جنہوں نے اقتدار کے لیے شارٹ کٹ لیا۔
لشکری رئیسانی نے کہا کہ جب اقتدار میں آتے ہیں تو سیاسی جماعتوں کا رویہ بدل جاتا ہے، فیصلہ کرنا ہو گا کیا ہم ملک کو آئینی نظام کے تحت چلائیں گے یا جائیداد سمجھ کر؟ اگر ہم نے پارلیمانی نظام نہ اپنایا تو یہ ملک آگے نہیں بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا، یہ بحران ان تمام سہولت کاری کا نتیجہ ہے جنہوں نے نظام کو کمزور کیا، پاور میں آنے والی جماعتیں ہمیشہ بلوچستان کو نظرانداز کرتی ہیں۔
لشکری رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل ڈرامہ نہیں یہ قومی مسئلہ ہے، 2018ء کے الیکشن میں کامیاب ہوا، آج تک فیصلہ نہیں آیا، کیا شفاف الیکشن کے لیے پارلیمنٹ کی کوئی ذمے داری نہیں؟
ان کا کہنا ہے کہ دنیا شفاف الیکشن کی طرف بڑھ رہی ہے ہم آج بھی متنازع انتخاب لڑ رہے ہیں، کیا کسی جماعت نے عدالتی اصلاحات پر واضح لائحہ عمل دیا؟
لشکری رئیسانی نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے ذریعے 73ء کے آئین کی اصلی شکل بحال کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔