لنکاشائر کاؤنٹی کرکٹ کلب نے انگلینڈ اور بھارت کے درمیان اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کے آخری دن پاکستانی ٹیم کی کرکٹ جرسی پہنے ایک شائق کو اسٹیڈیم سے نکالنے پر معذرت کر لی ہے۔

 شائق نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں وہ سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق لنکاشائر کلب کے ایک اسٹاف ممبر نے فاروق نذر سے کہا کہ وہ اپنی سبز پاکستانی جرسی کو ڈھانپ لیں، لیکن انکار کرنے پر پولیس نے انہیں اسٹیڈیم سے باہر نکال دیا۔ اس واقعے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی جس کے بعد کلب نے اس معاملے کی اندرونی تحقیقات شروع کیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ٹی شرٹ پہنے تماشائی کو گراؤنڈ سے باہر کیوں نکالا گیا؟ لنکاشائر کلب نے ایکشن لے لیا

کلب نے اپنے جواب میں واضح کیا کہ شائق کو صرف پاکستان کی جرسی پہننے کی بنیاد پر نہیں نکالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو صرف پاکستان کرکٹ شرٹ پہننے کی وجہ سے نکالنے کا ارادہ نہیں تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس سے قبل پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیا کچھ مداحوں کی جانب سے پاکستانی پرچم لہرانے پر پاکستانی اور بھارتی شائقین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔

بیان کے مطابق، ’ایک گروپ نے پاکستان کا قومی پرچم لہرا یا، جس سے قریب کھڑے بھارتی شائقین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس موقع پر ہمارے اسٹیورڈز نے احترام سے صورتحال کو قابو پایا اور پرچم نیچے کرنے کی درخواست کی، جس پر وہ فوراً رضا مند ہو گئے‘۔

کلب نے بتایا کہ فاروق نذر سے ان کی جرسی کو ڈھانپنے کی درخواست ایک نگران نے کی تھی تاکہ ممکنہ تناؤ سے بچا جا سکے، اور کئی بار نرمی سے کہا گیا، مگر پولیس کی مداخلت کے بغیر نذر نہ مانے۔ لنکاشائر نے کہا کہ اس پس منظر کی وجہ سے آخری میچ کے دوران حفاظتی نقطہ نظر اپنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی شرٹ پر پابندی؟ پی سی بی سے آئی سی سی میں آواز اٹھانے کا مطالبہ

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اسٹینڈ کے نگران نے نرمی سے نذر سے درخواست کی کہ اپنی شرٹ ڈھانپیں تاکہ ان کی حفاظت یقینی بن سکے اور کشیدگی سے بچا جا سکے لیکن نگران اور ریسپانس ٹیم کی متعدد نرم درخواستوں کے باوجود، نذر نے تعاون سے انکار کیا‘۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی عروج پر ہے، خصوصاً جون کے آغاز میں ہونے والی مختصر سرحدی جھڑپوں کے بعد اس تناؤ کا اثر دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز، بی سی سی آئی اور پی سی بی کے تعلقات پر بھی پڑا ہے، پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے مابین درمیان 2012-13 کے بعد کوئی باقاعدہ سیریز نہیں ہوئی، جبکہ ٹیسٹ کرکٹ تو 2007-08 سے بند ہے۔

آئی سی سی ایونٹس میں بھی دونوں ممالک کے درمیان میچز کے لیے حالیہ برسوں میں غیر جانبدار مقام کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ کسی ایک ملک کی میزبانی کا تنازع نہ پیدا ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی سی سی انگلینڈ بھارت میچ اولڈ ٹریفورڈ پاکستانی شائق لنکاشائر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انگلینڈ بھارت میچ پاکستانی شائق لنکاشائر کے درمیان کلب نے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • تاجکستان اور پاکستان کے درمیان ثقافتی و علمی تعاون کے فروغ پر اتفاق
  • ایشین گیمز کرکٹ : پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو براہِ راست کوارٹر فائنل میں رسائی مل گئی
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا