’ہم معذرت خواہ ہیں‘، پاکستانی شرٹ پہنے تماشائی کو نکالنے پر لنکاشائر نے معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
لنکاشائر کاؤنٹی کرکٹ کلب نے انگلینڈ اور بھارت کے درمیان اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کے آخری دن پاکستانی ٹیم کی کرکٹ جرسی پہنے ایک شائق کو اسٹیڈیم سے نکالنے پر معذرت کر لی ہے۔
شائق نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں وہ سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق لنکاشائر کلب کے ایک اسٹاف ممبر نے فاروق نذر سے کہا کہ وہ اپنی سبز پاکستانی جرسی کو ڈھانپ لیں، لیکن انکار کرنے پر پولیس نے انہیں اسٹیڈیم سے باہر نکال دیا۔ اس واقعے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی جس کے بعد کلب نے اس معاملے کی اندرونی تحقیقات شروع کیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ٹی شرٹ پہنے تماشائی کو گراؤنڈ سے باہر کیوں نکالا گیا؟ لنکاشائر کلب نے ایکشن لے لیا
کلب نے اپنے جواب میں واضح کیا کہ شائق کو صرف پاکستان کی جرسی پہننے کی بنیاد پر نہیں نکالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو صرف پاکستان کرکٹ شرٹ پہننے کی وجہ سے نکالنے کا ارادہ نہیں تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس سے قبل پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیا کچھ مداحوں کی جانب سے پاکستانی پرچم لہرانے پر پاکستانی اور بھارتی شائقین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔
بیان کے مطابق، ’ایک گروپ نے پاکستان کا قومی پرچم لہرا یا، جس سے قریب کھڑے بھارتی شائقین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس موقع پر ہمارے اسٹیورڈز نے احترام سے صورتحال کو قابو پایا اور پرچم نیچے کرنے کی درخواست کی، جس پر وہ فوراً رضا مند ہو گئے‘۔
کلب نے بتایا کہ فاروق نذر سے ان کی جرسی کو ڈھانپنے کی درخواست ایک نگران نے کی تھی تاکہ ممکنہ تناؤ سے بچا جا سکے، اور کئی بار نرمی سے کہا گیا، مگر پولیس کی مداخلت کے بغیر نذر نہ مانے۔ لنکاشائر نے کہا کہ اس پس منظر کی وجہ سے آخری میچ کے دوران حفاظتی نقطہ نظر اپنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی شرٹ پر پابندی؟ پی سی بی سے آئی سی سی میں آواز اٹھانے کا مطالبہ
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اسٹینڈ کے نگران نے نرمی سے نذر سے درخواست کی کہ اپنی شرٹ ڈھانپیں تاکہ ان کی حفاظت یقینی بن سکے اور کشیدگی سے بچا جا سکے لیکن نگران اور ریسپانس ٹیم کی متعدد نرم درخواستوں کے باوجود، نذر نے تعاون سے انکار کیا‘۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی عروج پر ہے، خصوصاً جون کے آغاز میں ہونے والی مختصر سرحدی جھڑپوں کے بعد اس تناؤ کا اثر دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز، بی سی سی آئی اور پی سی بی کے تعلقات پر بھی پڑا ہے، پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے مابین درمیان 2012-13 کے بعد کوئی باقاعدہ سیریز نہیں ہوئی، جبکہ ٹیسٹ کرکٹ تو 2007-08 سے بند ہے۔
آئی سی سی ایونٹس میں بھی دونوں ممالک کے درمیان میچز کے لیے حالیہ برسوں میں غیر جانبدار مقام کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ کسی ایک ملک کی میزبانی کا تنازع نہ پیدا ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی انگلینڈ بھارت میچ اولڈ ٹریفورڈ پاکستانی شائق لنکاشائر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انگلینڈ بھارت میچ پاکستانی شائق لنکاشائر کے درمیان کلب نے
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔