سندور تو اُجڑ گیا، جیا بچن نے راجیہ سبھا میں مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
سینئر بھارتی اداکارہ اور سماج وادی پارٹی کی سینئر رکن جیا بچن نے راجیہ سبھا میں ‘آپریشن سندور’ پر شدید تنقید کرتے ہوئے مودی کو آئینہ دکھا دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹ اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ راجیہ سبھا کے حالیہ مون سون سیشن کے دوران سماج وادی پارٹی کی سینئر رکن جیا بچن نے ’آپریشن سندور‘ کے نام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
جیا بچن نے اپنے خطاب میں سوال اُٹھایا کہ اس آپریشن کو "سندور” جیسا علامتی اور جذباتی نام کیوں دیا گیا؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس آپریشن کے نام پر کئی خواتین کا "سندور” تو اُجڑ گیا ہے۔ وہ فوجی نوجوان جو اس آپریشن میں مارے گئے ان کی بیویوں کے سندور مٹ چکے ہیں۔
Sindoor to ujad gaya, toh army operation ka naam operation Sindoor kyu (Why did we name it ‘Sindoor’? Sindoor has been wiped off already)- SP MP Jaya Bacchan
What to say… pic.
— Mr Sinha (@MrSinha_) July 30, 2025
دورانِ تقریر حکومتی بینچ سے مداخلت پر جیا بچن نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب دوسروں کو بولنے دیا جاتا ہے تو اُنہیں بھی مکمل بات کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "براہ کرم مجھے کنٹرول نہ کریں۔”
ایک حکومتی رکن کی بات پر ردعمل دیتے ہوئے جیا بچن نے کہا کہ وہ اس پر بات نہیں کریں گی، لیکن ان کے کان سب کچھ سن سکتے ہیں۔ ان کی نشست کے قریب بیٹھی شیو سینا کی رکن پریانکا چترویدی اس دوران مسکراتی دکھائی دیں۔
سوشل میڈیا پر بھی جیا بچن کی یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: جیا بچن نے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔