سیف علی خان اور کرینہ کپور کی طلاق ہونے جارہی ہے، مبشر لقمان کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
پاکستان کے معروف صحافی مبشر لقمان نے ایک حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ بالی ووڈ کے مشہور جوڑے سیف علی خان اور کرینہ کپور اپنی شادی کے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارت میں موجود ان کے میڈیا کے زرائع کے مطابق یہ شاہی جوڑا جو حال ہی میں سیف علی خان پر حملے کے بعد بےحد مقبول ہوا ممکنہ طور پر علیحدگی اختیار کرنے والا ہے۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سیف علی خان پر حملہ بھی کہا جارہا ہے کہ کرینہ کپور نے کیا تھا کیونکہ انہوں نے سیف کو گھر کی نوکرانی کے ساتھ پکڑ لیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ سیف علی خان نے قطر کی نیشنلٹی لے لی ہے اور وہ وہاں مسقتل طور پر منتقل ہونا چاہتے ہیں تاہم کرینہ وہاں نہیں جانا چاہتی جو کہ ان کی علیحدگی کی وجہ بن رہی ہے۔
A post common by Paperazzi Magazine (@paperazzimagazine)
مبشر لقمان کا یہ انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے تاہم ابھی تک سیف علی خان اور نہ ہی کرینہ کپور نے ان خبروں کی تصدیق یا تردید کی ہے، لیکن سوشل میڈیا پر اس خبر نے تہلکہ مچا دیا ہے۔
مداحوں کی جانب سے تشویش اور حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ کچھ لوگ اس کو محض ایک اور افواہ قرار دے رہے ہیں جو اکثر بالی ووڈ شخصیات کی نجی زندگی سے متعلق گرد گردش کرتی رہتی ہیں۔
یاد رہے کہ سیف علی خان اور کرینہ کپور 2012 میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے اور ان کے 2 بیٹے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سیف علی خان اور مبشر لقمان کا کرینہ کپور
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔