کمبوڈیا نے بھی صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
کمبوڈیا کے نائب وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ نے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے مابین حالیہ سرحدی کشیدگی کو ختم کرانے میں براہِ راست کردار ادا کیا، جس کے باعث وہ اس اعزاز کے حق دار ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب وزیراعظم چنتھول نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نوبیل امن انعام 2026 کے لیے باضابطہ طور پر نامزد
اس سے قبل دارالحکومت نوم پنہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے صدر ٹرمپ کی امن کے لیے کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں نوبل امن انعام کا موزوں امیدوار قرار دیا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے پاکستان بھی بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام دینے کی سفارش کر چکا ہے۔
یاد رہے کہ جولائی 2025 میں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان 7 روزہ سرحدی تصادم میں کم از کم 43 افراد ہلاک اور 3 لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہوئے تھے۔ یہ لڑائی دونوں ممالک کے درمیان پچھلی دہائی کی بدترین جھڑپ تھی، جو تاریخی سرحدی تنازعے کے باعث بھڑکی۔
مسلح تصادم کے خاتمے کے لیے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ثالثی اجلاس ہوا، جس میں امریکا کی مداخلت فیصلہ کن ثابت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر تازہ امریکی حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل ایوارڈ ہرگز نہیں ملنا چاہیے، عظمیٰ بخاری
ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سے براہِ راست رابطہ کر کے سیز فائر پر زور دیا، اور متنبہ کیاکہ کشیدگی ختم نہ ہونے کی صورت میں امریکا تجارتی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی صدر پاک بھارت جنگ پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ کمبوڈیا نامزدگی نوبل امن انعام وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر پاک بھارت جنگ پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ کمبوڈیا نامزدگی وی نیوز ٹرمپ کو نوبل امن انعام ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر کے لیے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔