پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے: وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 4 August, 2025 سب نیوز
گلگت: (آئی پی ایس) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔
گلگت بلتستان میں بارشوں اور سیلابی صورتحال کے حوالے سے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گلگت میں سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ سے نقصانات کا جائزہ لینے آیا ہوں، گلگت میں حالیہ بارشوں سے بہت نقصانات ہوئے، حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات پر افسوس ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی ادارے گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، عالمی سطح پر کاربن گیسز کے اخراج میں ہمارا حصہ انتہائی کم ہے، پاکستان کا شمار ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے 10 ملکوں میں ہوتا ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: وزیر اعظم گلگت پہنچ گئے، گورنر نے بارشوں سے ہونے والے نقصانات بارے آگاہ کیا
ان کا کہنا تھا کہ 2022 میں بھی بارشوں اور سیلاب نے بہت تباہی مچائی، ہر سال ہم موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہو رہے ہیں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور باقی صوبوں میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو ہدایات دی گئی ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقدامات وقت کی ضرورت ہیں، این ڈی ایم اے اہم قومی ادارہ ہے اور بہت اچھا کام کر رہا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں دانش سکول کا جلد قیام عمل میں لایا جائے گا، سولر پارک کا منصوبہ ذاتی بنیاد پر دیکھ رہا ہوں، ذاتی نگرانی میں منصوبہ جلد از جلد مکمل کریں گے۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت پہنچے جہاں وزیراعظم سے گورنر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کو حالیہ بارشوں کے نتیجے میں سیلابی صورتحال اور نقصانات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت اور امن وا مان کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحقائق کی جانچ سپریم کورٹ کا کام نہیں، قانون کی خلاف ورزی کو دیکھیں گے: چیف جسٹس حقائق کی جانچ سپریم کورٹ کا کام نہیں، قانون کی خلاف ورزی کو دیکھیں گے: چیف جسٹس سی ڈی اے ، نا کوئی میرٹ نا کوئی ضابط،، جس پر دل آیا عہدہ دیدیا،من پسند جونئیر آفیسران کی سینئرپوسٹوں پر تعیناتی معمول... راولپنڈی میں غیرت کے نام پر شادی شدہ لڑکی کے قتل کی تفتیش میں مزید انکشافات جعفر ایکسپریس پر ایک بار پھر حملہ، ٹرین کو دوزان ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا دورۂ پاکستان اچانک ملتوی وزیرِ اعظم کا گلگت بلتستان کا دورہ، گورنر کی حالیہ بارشوں کے نتیجے میں نقصانات کے حوالے سے بریفنگ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان موسمیاتی تبدیلی ممالک میں شامل ہے ہونے والے 10
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔