صارفین اور کاروباری طبقے کے لیے بڑی خوشخبری: آن لائن خریداری پر عائد ڈیجیٹل ٹیکس ختم
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
پاکستان کی وفاقی حکومت نے بیرونِ ملک سے آن لائن منگوائی جانے والی اشیا اور ڈیجیٹل سروسز پر عائد 5 فیصد ڈیجیٹل ٹیکس ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ فیصلہ یکم جولائی 2025 سے نافذالعمل ہو چکا ہے۔
یہ ٹیکس اُن بین الاقوامی کمپنیوں کی مصنوعات اور خدمات پر عائد کیا گیا تھا جن کا پاکستان میں کوئی دفتر یا قانونی نمائندہ موجود نہیں۔ اس سے متاثرہ خدمات میں اسٹریمنگ، سافٹ ویئر، سبسکرپشنز کے علاوہ وہ تمام آن لائن خریداری شامل تھی جو پاکستانی صارفین بیرونِ ملک ویب سائٹس جیسے کہ علی ایکسپریس، ٹیمو، ایمازون اور دیگر چینی و مغربی پلیٹ فارمز سے کرتے تھے۔
“لاکھوں آن لائن خریداروں کو براہِ راست فائدہ ہوگا”
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے لاکھوں آن لائن صارفین کو براہِ راست ریلیف ملے گا جو پہلے ہی عالمی مہنگائی اور مقامی معاشی دباؤ کے باعث مہنگی اشیا خریدنے پر مجبور تھے۔
معاشی تجزیہ کار راجہ کامران نے نجی ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے کہا:
“یہ صرف سافٹ ویئر یا ایپس کا مسئلہ نہیں ہے۔ پاکستان میں ایک بڑا طبقہ ہے جو ٹیمو، ایمازون اور علی بابا جیسی ویب سائٹس سے کپڑے، جوتے، گھریلو اشیا اور گیجٹس منگواتا ہے۔ 5 فیصد ٹیکس چیزوں کو عام صارف کی پہنچ سے دور کر رہا تھا۔ اب جب یہ ٹیکس ہٹا دیا گیا ہے، لوگ وہی اشیا کم قیمت پر خرید سکیں گے۔”
انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا:
” علی ایکسپریس سےاگر کوئی صارف ایک لاکھ روپے کی گھڑی یا موبائل منگواتا تھا تو اسے اضافی 5 ہزار روپے ٹیکس دینا پڑتا تھا۔ اب یہ ٹیکس ختم ہو چکا ہے، یعنی براہِ راست 5 فیصد کمی آ گئی ہے۔”
“چھوٹے کاروبار کے لیے عملی ریلیف”
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے آن لائن بزنس مین فیصل بٹ، جو چین سے الیکٹرانکس اور گھریلو اشیا درآمد کرتے ہیں، اس فیصلے کو “عملی ریلیف” قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال جب انہوں نے علی بابا سے سامان منگوایا، تو لاکھوں روپے صرف 5 فیصد ٹیکس کی مد میں ادا کرنا پڑے۔
“جب آپ دس یا 20 لاکھ کا سامان منگواتے ہیں تو یہ رقم بڑی ہو جاتی ہے۔ اب جب ٹیکس ختم ہو گیا ہے، تو ہم کم لاگت پر مال منگوا سکیں گے جس سے صارفین کو بھی سستی اشیامل سکیں گی۔ اس سے نہ صرف سیلز میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کامارکیٹ پر اعتماد بھی بحال ہوگا۔”
فیصل بٹ کے مطابق چھوٹے آن لائن ریٹیلرز کے لیے ہر روپیہ اہم ہوتا ہے، اور یہ فیصلہ ان کے لیے ایک بڑی آسانی ہے۔
“مارکیٹ کے لیے بہتری کا موقع، اگرچہ ٹیکس آمدن میں وقتی کمی ممکن ہے”
ڈیجیٹل مارکیٹنگ کنسلٹنٹ مریم چوہدری نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف خریداروں کے لیے نہیں، بلکہ فری لانسرز، چھوٹے کاروبار، یوٹیوبرز اور آن لائن اسٹورز چلانے والوں کے لیے بھی ایک بڑی سہولت ہے۔
“یہ مارکیٹ کی بحالی کی طرف ایک قدم ہے۔ جو لوگ ٹیمو یا علی بابا سے چیزیں خرید کر آگے بیچتے ہیں، اُن کے لیے قیمت میں یہ کمی ایک کاروباری فائدہ بن سکتی ہے۔ نتیجتاً مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا اور صارف کو بہتر قیمت پر چیزیں ملیں گی۔”
مریم کے مطابق اگرچہ اس فیصلے سے حکومت کو ابتدائی طور پر ٹیکس ریونیو میں کمی محسوس ہو سکتی ہے، لیکن درمیانی مدت میں بڑھتی ہوئی خریداری اور مارکیٹ سرگرمی اس کمی کو پورا کر سکتی ہے۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹیکس ختم کے مطابق آن لائن کے لیے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔