اداکارہ شرمین حنا رضوی نے شوہر سے علیحدگی کی تصدیق کر دی
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ شرمین حنا رضوی نے اپنے شوہر عمار احمد خان سے علیحدگی کی تصدیق کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں اداکارہ نے مداحوں کو مطلع کیا کہ وہ اور ان کے شوہر علیحدگی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں تاہم ابھی طلاق کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر حنا رضوی نے تحریر کیا کہ وہ دل پر بوجھ کے ساتھ یہ اعلان کر رہی ہیں کہ وہ اور ان کے شوہر فی الحال الگ ہو چکے ہیں۔ دونوں کو اس رشتے کے مستقبل کے حوالے سے غور و فکر کے لیے وقت درکار ہے۔ اداکارہ نے عوام سے اپیل کی کہ ان کی نجی زندگی کا احترام کیا جائے اور کسی قسم کے منفی تبصرے سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شادی کے معاملات کو صرف وہی دو لوگ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جو اس بندھن میں بندھے ہوں۔ حنا رضوی نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ ان کے لیے نہایت مشکل تھا اور دونوں اس وقت جذباتی دباؤ میں ہیں۔ اداکارہ نے ان افراد پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا جو سوشل میڈیا پر ان کی نجی زندگی پر تبصرے کر رہے ہیں۔ چند روز قبل اداکارہ نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز میں بھی ایسے پیغامات شیئر کیے تھے جن سے ان کی ازدواجی زندگی میں پیدا ہونے والی دوریوں کا عندیہ مل رہا تھا۔ یاد رہے کہ شرمین حنا رضوی اور عمار احمد خان کی شادی اپریل 2024 میں ہوئی تھی جس میں شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات اور دونوں خاندانوں کے قریبی افراد نے شرکت کی تھی۔ شادی کے کچھ ہی ماہ بعد علیحدگی کی خبر نے مداحوں کو حیران کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: حنا رضوی نے اداکارہ نے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت