پی ٹی آئی کے 5 اگست احتجاج سے قبل لاہور میں کریک ڈاؤن، 200 سے زائد کارکن گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
لاہور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 5 اگست کے مجوزہ احتجاج سے قبل پولیس نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے 200 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد کو شہر کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا، جن میں سے کچھ کو شورٹی بانڈز (ضمانتی مچلکوں) پر چھوڑ دیا گیا ہے، تاہم پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور پولیس کی جانب سے ”ڈور ناکنگ“ کی کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے 5 اگست کے احتجاج کے پیش نظر گرفتاری کے خدشے کے باعث پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔سلمان اکرم راجہ نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردی۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پولیس اور ایف آئی اے میں درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔درخواست میں سیکرٹری داخلہ، پولیس، ایف آئی اے اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے جبکہ درخواست دائر کرنے سے قبل سلمان اکرم راجہ نے بائیو میٹرک تصدیق بھی کروائی۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں ہونے والا مرکزی احتجاجی جلسہ منسوخ کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا نے 5 اگست کو عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ”یوم سیاہ“ منانے کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن مینا خان کے مطابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور پشاور میں مرکزی ریلی کی قیادت کریں گے، جبکہ صوبے کے تمام اضلاع میں علیحدہ علیحدہ احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔ مرادن، صوابی اور نوشہرہ سے آنے والے قافلے صوابی انٹرچینج پر جمع ہوں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا ہے کہ 5 اگست کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ریلی نکالی جائے گی، جو پشاور رنگ روڈ سے ہوتے ہوئے قلعہ بالا حصار پر اختتام پذیر ہوگی۔تحریک انصاف نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے اب قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کی بنیاد پر اضلاع اور قصبوں میں احتجاج کی منصوبہ بندی کی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اگر 5 اگست کا احتجاج غیر مؤثر رہا تو اس تحریک کو 14 اگست تک توسیع دینے پر غور ہو رہا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین، پارلیمانی پارٹی کی سربراہ اور متعدد سرکردہ ارکان کو پولیس تلاش کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: تحریک انصاف اسلام آباد پی ٹی آئی
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔