مسلسل 40 روز تک اسمبلی اجلاس سے غیر حاضری، شیخ وقاص اکرم کی رکنیت ختم کرنے کی تحریک پیش
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 اگست 2025ء ) قومی اسمبلی اجلاس سے مسلسل 40 روز تک غیر حاضری پر پی ٹی آئی کے ایم این اے شیخ وقاص اکرم کی رکنیت ختم کرنے کی تحریک پیش کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے رولنگ دی کہ شیخ وقاص اکرم 40 روزسے مسلسل ایوان سے غیرحاضرہیں، اگرکوئی رکن چالیس دن تک غیرحاضررہے تو اس کے خلاف کوئی بھی رکن قومی اسمبلی نشست خالی قراردینے کی تحریک لاسکتا ہے اور وہ تحریک منظور ہونے کی صورت میں غیر حاضر رکن کی نشست خالی قراردے دی جائے گی، بطور سپیکر ایوان کو آئین اور قواعد سے آگاہ کر رہا ہوں، قواعد و ضوابط ملک عامر ڈوگر کو دی جائیں۔
اس پر تحتیک انصاف کے رکن ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ ’یہ رول جو آپ نے پڑھا ہے بتا دیں آج تک کس نے قواعد پر عمل کیا ہے؟ ہمارے اراکین یہاں پارلیمنٹ ہاؤس سے گرفتار کیے گئے، یہاں جو ظلم ہو رہا ہے ہمارے اراکین کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے‘، سپیکر قومی اسمبلی نے جواب دیا کہ ’ہم نے پروڈکشن آرڈر جاری کیے ہیں‘، جس پر ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ ’یہ ہمارا حق ہے‘، ایاز صادق نے سوال کیا کہ ’یہ حق 2018ء سے 2022ء تک کہاں تھا؟‘، پی ٹی آئی رکن نے کہا کہ ’یہی ماحول رہنا ہے تو پارلیمان کو تالا لگا دیں‘۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ سپیکر کی رولنگ کے بعد صدر ینگ پارلیمنٹیرینز فارم و رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف رکن قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم کی قومی اسمبلی کے اجلاسوں سے متواتر 40 دن بغیر درخواست دیئے غیر حاضری پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل نمبر 64 کی شک نمبر 2 کے تحت تحریک پیش کی جس میں شیخ وقاص اکرم کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے شیخ وقاص اکرم کی قومی اسمبلی
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :