چین میں بڑی عمر کے افراد میں چوسنیوں کا رجحان عام کیوں ہوتا جارہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
حال ہی میں چین میں بڑی عمر کے افراد میں ذہنی تناؤ کو کم کرنے کیلئے چوسنیاں متعارف کرائی گئی ہیں جس نے مقبول ٹرینڈ کی شکل اختیار کرلی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بڑوں میں ڈپریشن کم کرنے کیلئے adult pacifiers استعمال کرنے کا ایک غیر معمولی ٹرینڈ بنتا جارہا ہے۔ جسے لوگ ذہنی دباؤ، نیند میں مشکل یا سگریٹ چھوڑنے کے لیے آرام دہ احساس کی غرض سے استعمال کر رہے ہیں۔
بڑوں کیلئے یہ چوسنیاں ستمبر 2025 سے ہی عام ہونے لگی تھیں جنہیں لوگ ذہنی تناؤ، کم نیند اور تمباکو نوشی ترک کرنے میں مددگار سمجھ کے استعمال کرتے ہیں۔ یہ چوسنیاں بچوں کی چوسنیوں سے قدرے بڑے سائز میں دستیاب ہوتی ہیں اور قیمت 10 یوان (425 پاکستانی روپوں) سے شروع ہوتی ہے۔
کچھ استعمال کنندگان نے ان چوسنیوں کو بچپن کے احساس اور نفسیاتی سکون کی صورت میں مفید قرار دیا ہے۔
چینی ڈاکٹر تینگ کاؤمین نے وارننگ دی ہے کہ اگر اس کا استعمال روزانہ تین گھنٹے سے زیادہ ہو تو ایک سال میں دانتوں کی صف بندی خراب ہوسکتی ہے، منہ کھولنے میں درد اور چبانے میں دشواری ہو سکتی ہے۔
علاوہ ازیں رات میں استعمال کے دوران چوسنی کے کسی حصے کا ٹوٹ کر سانس میں چلے جانا سانس اٹک جانے کا خطرہ بن سکتا ہے۔
ماہر نفسیات زینگ مو نے نشاندہی کی کہ یہ رجحان اکثر جذباتی ضرورت کی غیر بالغانہ شکل ہے جبکہ اصل مسئلے کا حل دراصل ذہنی دباؤ کے مسائل کا مقابلہ کرنا ہے نہ کہ بچپن کی عادتیں اپنانا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔