پلاسٹک آلودگی صحت کے لیے سنگین خطرہ، سالانہ 1.5 ٹریلین ڈالر کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 اگست 2025ء) معروف طبی محققین اور ڈاکٹروں کی طرف سے تیار کردہ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں شائع کی گئی ہے، جب جنیوا میں پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک عالمی معاہدے پر نئی بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے۔
دی لانسیٹ میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، ''پلاسٹک بچپن سے بڑھاپے تک بیماریوں اور اموات کا باعث بن رہا ہے، جس سے صحت سے متعلق سالانہ 1.
رپورٹ میںپلاسٹک کے اثرات کا موازنہ ہوا کی آلودگی اور سیسے سے کیا گیا اور کہا گیا کہ قوانین اور پالیسیوں کے ذریعے اس کے صحت پر اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین نے جنیوا میں جمع ہونے والے تقریباً 180 ممالک کے نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ناکام کوششوں کے بعد بالآخر ایک معاہدے پر اتفاق کریں۔
(جاری ہے)
الیکٹرک گاڑیوں کے ٹائر آلودگی کے لیے ایک نیا درد سر
بوسٹن کالج امریکہ کے ڈاکٹر اور محقق فلپ لینڈریگن نے خبردار کیا کہ پلاسٹک آلودگی سے سب سے زیادہ کمزور افراد، خاص طور پر بچے، متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ''ہم پر لازم ہے کہ ہم اس کا سدباب کریں۔ جنیوا میں ملاقات کرنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ اس عالمی بحران کے جواب میں معنی خیز اور موثر بین الاقوامی تعاون کے لیے مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کا چیلنج تسلیم کریں اور موقع بروئے کار لائیں۔‘‘ مائیکرو پلاسٹک کا خطرہرپورٹ میں مائیکرو پلاسٹک کے چھوٹے ذرات کے بارے میں بھی خبردار کیا گیا، جو فطرت اور انسانی جسموں میں ہر جگہ پائے گئے ہیں۔
مائیکرو پلاسٹک کے صحت پر مکمل اثرات ابھی پوری طرح معلوم نہیں لیکن محققین نے اس پلاسٹک کے ممکنہ اثرات کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ری سائیکلنگ سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
پلاسٹک کی پیداوار اور ری سائیکلنگرپورٹ کے مطابق دنیا میں پلاسٹک کی پیداوار 1950 میں دو ملین ٹن سے بڑھ کر سن 2022 میں 475 ملین ٹن ہو چکی تھی اور سن 2060 تک اس کی پیداوار میں تین گنا اضافے کا امکان ہے۔
تاہم، فی الحال 10 فیصد سے بھی کم پلاسٹک ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ پلاسٹک اور ماحولیاتی بحرانلینڈریگن نے کہا کہ پلاسٹک کا عالمی ''بحران‘‘ ماحولیاتی بحران سے جڑا ہوا ہے کیونکہ پلاسٹک فوسل ایندھن سے بنتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ''یہ دونوں آج ہزاروں لوگوں میں بیماری، اموات اور معذوری کا باعث بن رہے ہیں اور آنے والے برسوں میں جیسے جیسے سیارہ گرم ہوتا جائے گا اور پلاسٹک کی پیداوار بڑھتی جائے گی، یہ نقصانات بھی مزید شدید ہو جائیں گے۔‘‘
اس رپورٹ میں پلاسٹک آلودگی کے صحت پر اثرات کو ٹریک کرنے کے لیے ایک نئے منصوبے کا بھی اعلان کیا گیا، جو دی لانسیٹ کاؤنٹ ڈاؤن سیریز کا حصہ ہے۔
ادارت: کشور مصطفیٰ
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پلاسٹک آلودگی کی پیداوار پلاسٹک کے کے لیے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔