لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 اگست ۔2025 )لاہور ہائیکورٹ نے سموگ کے تدارک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ حکومت ماحولیات کے تحفظ کیلئے سنجیدہ نظر آ رہی ہے لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک کے لیے دائر درخواستوں پر جسٹس شاہد کریم نے سماعت کی، جس دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز عدالت کے روبرو پیش ہوئے.

(جاری ہے)

دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل نے کینال روڈ یلو ٹرین منصوبے سے متعلق عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ منصوبے کا پی سی ون ابھی تک تیار نہیں کیا گیا، کینال روڈ سے متعلق فی الحال کوئی باضابطہ دستاویز یا ریکارڈ موجود نہیں امجد پرویز نے یقین دہانی کروائی کہ اگر حکومت مستقبل میں کینال روڈ پر یلو ٹرین منصوبہ لاتی ہے تو اس کا پی سی ون عدالت میں پیش کیا جائے گا.

عدالت نے اس موقع پر واضح ہدایات جاری کیں کہ اگر ایسا کوئی منصوبہ پیش کیا جائے تو اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ درختوں کو نقصان نہ پہنچے، کینال روڈ پر موجود چھوٹے درخت اب بڑے ہو چکے ہیں، ان کی افزائش میں برسوں کی محنت شامل ہے اور یہ علاقہ قومی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے. عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کی سنجیدہ قانونی معاونت پر ان کی تعریف کی اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے پنجاب حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت ماحولیات سے متعلق کافی سنجیدہ دکھائی دیتی ہے اور عملی اقدامات بھی کر رہی ہے.

واضح رہے کہ عدالت یہ سماعت شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں پر کر رہی تھی جن میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے لیے مثر حکومتی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے ماضی میں مسلم لیگ نون کی صوبائی حکومتوں کی جانب سے کینال روڈکے توسیعی منصوبوں کے دوران نہرکے کنارے سینکڑوں سال پرانے درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی کا معاملہ بھی عدالتوں میں زیرسماعت رہا ہے.

ماحولیاتی امورکے ماہرین بھی مسلم لیگ نون اور جنرل پرویزمشرف کے دور میں مسلم لیگ قاف کی پنجاب حکومتوں کو لاہور کوماحولیات اور آلودگی سمیت دیگر مسائل کا ذمہ دار ٹہراتے ہیں کیونکہ ان ادوار حکومت میں شہر کو بغیرکسی منصوبہ بندی کے توسیع دی گئی جس سے شہر کے چاروں طرف زرعی علاقے‘جنگلات اور آبائی ذخائرختم ہوتے گئے اور ان کی جگہ ہاﺅسنگ سوئیٹیاں بنتی گئیں اس کے علاوہ شہر میں ٹریفک کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی آج لاہور میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعدادایک کروڑکے قریب بتائی جاتی ہے جن میں نصف کے قریب موٹرسائیکلیں ہیں .

ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ تقریبا ایک صدی پہلے بدترین ماحولیاتی آلودگی سامنا کرچکا ہے جب صنعتی ترقی اورگاڑیوں کی اچانک بہتات ہونے سے ماحولیاتی آلودگی نے پورے خطے کو لپیٹ میں لے لیا تھا آج یورپی ماہرین ٹریفک کو ماحولیاتی آلودگی کی ایک بڑی وجہ اسی لیے قراردیتے ہیں . انہوں نے کہاکہ یورپ نے اس سے سبق سیکھا اور ایندھن کے لیے معیار مقررکیا اسی طرح گاڑیاں بنانے والے کارخانوں کے لیے سخت ضوابط طے کیئے گئے جن کے تحت وہ گاڑیوں میں خصوصی آلات لگانے کے پابند ہیں جن سے آلودگی پھیلنے کے خطرات کم سے کم ہوں جبکہ یورپ میں ایندھن کے لیے مقررمعیار کو دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ملکوں نے بھی اپنایا تاہم پاکستان جیسے ملکوں میں حکومتیں ماحولیات کو مسلہ ہی نہیں سمجھتیں جس کی مثال نمائشی شجر کاری کی مہمات ہیں جن میں ایسے پودوں کو پرموٹ کیا جاتا ہے جن کا ہمارے ماحول‘زمین اور آب وہوا سے کوئی تعلق نہیں . 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ماحولیاتی آلودگی کینال روڈ کے لیے

پڑھیں:

سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش

وفاقی آئینی عدالت میں سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کے نفاذ کے طریقۂ کار پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں مختلف قانونی نکات اور رائلٹی کے دائرہ کار پر تفصیلی ریمارکس دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ رائلٹی کا نفاذ معدنیات پر ہونا چاہیے نہ کہ سیمنٹ کی تیار شدہ بوری پر، کیونکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی عائد کرنے سے اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوگا۔ جسٹس روزی خان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ رائلٹی کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے، جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت فینش پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے لاء افسران کو اس معاملے پر واضح ہدایات دینی چاہئیں کہ اس نوعیت کا نفاذ قانونی طور پر مناسب نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ

عدالت میں وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے، جبکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی دراصل ایک بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کا نفاذ دراصل ڈبل ایکسائز ٹیکس کی وصولی کے برابر ہے۔

دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید وقت فراہم کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب حکومت رائلٹی کیس سیمنٹ کیس وفاقی آئینی عدالت

متعلقہ مضامین

  • سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
  • لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ