پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی خاتون رہنماء صفیہ کاکڑ نے کہا کہ تحریک انصاف کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ ہمارا مقصد انصاف کا نظام، قانون کی بالادستی اور تحفظ آئین ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف بلوچستان خواتین ونگ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لئے کوئٹہ پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں پی ٹی آئی ویمن ونگ کی رہنماء صفیہ کاکڑ اور دیگر کارنکنوں نے شرکت کی اور عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کی خاتون رہنماء صفیہ کاکڑ نے کہا کہ ہمارے لیڈر عمران خان کو پابند سلاسل کیا گیا۔ تحریک انصاف کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ ہمارا مقصد انصاف کا نظام، قانون کی بالادستی اور تحفظ آئین ہے۔ ہمارے لیڈر ڈٹ کر فارم 47 کے حکمرانوں کو مقابلہ کر رہے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم کیا جا رہا ہے۔ ہم مظلوم کشمیروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پی ٹی آئی کی خواتین رہنماؤں نے کہا کہ اپنے پارٹی قائد کی رہائی تک جہدوجہد کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی نے کہا کہ کی رہائی

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق