مشہور بھارتی اداکارہ و لوک سبھا کی سابق رکن کو قتل اور ریپ کی دھمکیاں ملنے لگیں
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
بھارتی اداکارہ اور سابق رکنِ پارلیمنٹ دیویا اسپاندانہ المعروف رمیا کو سوشل میڈیا پر قتل اور ریپ کی دھمکیاں دینے کے الزام میں پولیس نے دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق رمیا نے بینگلورو پولیس کو درخواست دی تھی جس میں انہوں نے بتایا کہ انہیں 43 مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے سنگین نوعیت کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔
پولیس نے اداکارہ کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے سائبر کرائم ونگ کے ذریعے تحقیقات کا آغاز کیا اور متعدد مشتبہ اکاؤنٹس کا سراغ لگایا۔ ان میں سے دو افراد کو گرفتار کیا گیا، جنہوں نے تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا۔
پولیس نے مزید بتایا کہ دھمکیاں دینے والے 11 اضافی اکاؤنٹس کی بھی شناخت ہو چکی ہے، جس سے ایسے اکاؤنٹس کی مجموعی تعداد 48 سے تجاوز کر گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق دھمکیوں کا آغاز اس وقت ہوا جب رمیا نے اپنے ایک بیان میں معروف اداکار درشن کے خلاف قتل کیس پر تبصرہ کیا، جس کے بعد درشن کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ رمیا کنڑ فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ہیں جنہوں نے 2023 میں فلمی دنیا میں واپسی کی تھی جبکہ وہ لوک سبھا کی سابق رکن بھی رہ چکی ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔