پاکستان کا عالمی برادری سے غزہ میں اسرائیلی جارحیت ختم کرانے کے لیے فوری اقدام کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ خصوصاً مسئلہ فلسطین پربریفنگ کے دوران، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی غزہ میں جاری غیرقانونی اور ظالمانہ جنگ کو فوری طور پر ختم کروانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے غزہ میں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور نسل کشی کے خلاف شدید احتجاج کیا، انہوں نے کہا کہ کسی بھی جواز کے تحت پوری آبادی کا اندھا دھند قتل یا انہیں فاقہ کشی پر مجبورکرنا ناقابل قبول ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان فلسطین میں فوری غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف
عاصم افتخارنے ایک اسرائیلی اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خود اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے غزہ میں پیدا ہونے والی صورتحال کو 21ویں صدی کا بدترین قحط قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں لوگ اس لیے بھوک سے مر رہے ہیں کہ انہیں دانستہ طور پر خوراک تک رسائی سے محروم رکھا جا رہا ہے، نہ کہ اس لیے کہ خوراک موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت اسرائیل ہے اور نہ پاکستان فلسطین، ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر
انہوں نے فوری، غیرمشروط اور مستقل جنگ بندی، اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، یرغمالیوں کی رہائی اورغزہ میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ کیا۔
عاصم افتخاراحمد نے مسئلہ فلسطین کے پرامن حل اور 2 ریاستی فارمولے پر عملدرآمد کی غرض سے منعقدہ حالیہ اعلیٰ سطحی کانفرنس کو ایک بروقت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد بین الاقوامی سطح پر مربوط اورعملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن واستحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں:حکومت پاکستان کا فلسطینی عوام کے لیے فوری امدادی پیکج کا اعلان
انہوں نے کہا کہ پائیدارامن کے لیےایک بااعتماد سیاسی راستہ ضروری ہے، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک خودمختار، قابلِ بقا اورمتصل فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف لے جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ القدس الشریف بریفنگ پائیدارامن سلامتی کونسل عاصم افتخاراحمد مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ القدس الشریف بریفنگ پائیدارامن سلامتی کونسل عاصم افتخاراحمد مسئلہ فلسطین کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔