چہلم امام حسینؑ: پنجاب میں 61 مقررین کے داخلے پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
سٹی42: پنجاب حکومت نے چہلم حضرت امام حسینؑ کے موقع پر امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے 61 اشتعال انگیز مقررین کے صوبے میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ فیصلہ پنجاب ایم پی او آرڈیننس 1960 کی دفعہ 5(1)(اے) کے تحت کیا گیا جس کا مقصد فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا اور امن و امان کو یقینی بنانا ہے۔
تفصیلات کے مطابق آئی جی پنجاب کے دفتر سے 91 مقررین کی فہرست ہوم ڈیپارٹمنٹ کو موصول ہوئی، ہوم ڈیپارٹمنٹ نے جانچ پڑتال کے بعد 61 افراد پر پابندی کی منظوری دی۔
سمری کے ذریعے منظوری کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
دوسری جانب علامہ شہنشاہ نقوی، علامہ شبیر الحسن طاہری، ساجد نقوی اور اشتیاق حسین کاظمی نے فہرست میں شامل ہونے پر اعتراضات جمع کروائے۔ اعتراضات کا جائزہ لینے کے بعد ان کے نام فہرست سے خارج کر دیے گئے
پولیس کی جانب سے چہلم اور دیگر مزارات پر ہونے والے عرس کے موقع پر سکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔پاک فوج اور رینجرز کی تعیناتی کا بھی امکان ہے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کے پانچ اور صوبائی اسمبلی کے تین ارکان کو نااہل قرار دے دیا،9 نشستیں خالی ہو گئیں
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔