پی آئی اے میں جعلی ڈگری پر ملازمت سے برطرفی کیخلاف سندھ ہائیکورٹ کا حکم امتناع ختم
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی اپیل پر پی آئی اے میں جعلی ڈگری پر ملازمت سے برطرفی کیخلاف سندھ ہائیکورٹ کا حکم امتناع ختم کردیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحی آفریدی کی سربراہی میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ کے روبرو پی آئی اے میں جعلی ڈگری پر ملازمت سے برطرفی کے معاملے پر حکم امتناع کیخلاف وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت ہوئی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل محسن شاہوانی نے مؤقف دیا کہ ندیم لودھی جعلی ڈگری پر ایسوسی ایٹ انجینر بھرتی ہوا تھا، ڈگری جعلی ثابت ہونے پر پی آئی اے نے شوکاز نوٹس جاری کرکے ملازمت سے برطرف کردیا تھا۔
ندیم لودھی حکم امتناع کے دوران ترقی پاکر آفیسر گریڈ کے گروپ 6 تک پہنچ گئے تھے، ندیم لودھی سے 2015 میں ہائی کورٹ سے حکم امتناع حاصل کیا تھا، عدالت نے پی آئی اے کو محکمہ جاتی کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ 10 برس سے آپ اسٹے آرڈر پر چل رہے ہیں، ایسا نہیں ہوسکتا، ہم حکم امتناع واپس لے رہے ہیں، آپ اپنے کیس کی تیاری کریں۔
عدالت عظمی نے سندھ ہائیکورٹ کا جاری کردہ حکم امتناع ختم کردیا۔
وفاقی حکومت نے سندھ ہائیکورٹ کے حکم امتناع کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سندھ ہائیکورٹ جعلی ڈگری پر ملازمت سے پی آئی اے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :