اسلام آباد میں جناح میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر پر پیش رفت، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی شفافیت اور عالمی معیار کی ہدایات
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
اسلام آباد (6 اگست 2025): وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت جناح میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر پر اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسپتال کے ڈیزائن، اراضی کی منتقلی، بورڈ کی تشکیل اور تعمیراتی معیار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت دی کہ جناح میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر میں اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے عالمی معیار کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تاکہ یہ ادارہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں کے مریضوں کے لیے شفاء کا ایک ماڈل اسپتال بنے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ اسپتال کے مختلف بلاکس کو چاروں صوبوں کے ناموں سے منسوب کیا جائے، جبکہ تمام تعمیراتی اور بھرتی کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو اولین ترجیح دی جائے۔
وزیرِ اعظم نے تعمیراتی معیار کی نگرانی کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی اور اسلام آباد میں پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے نظام کی بہتری کا منصوبہ پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ٹرشری اسپتالوں پر دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے پی کے ایل آئی ایک مثالی ادارہ بن چکا ہے، اور جناح میڈیکل کمپلیکس کو اس سے بھی بہتر اور عالمی معیار کا اسپتال بنایا جائے گا۔ اسپتال میں صفائی سمیت تمام سروسز کو میرٹ پر آؤٹ سورس کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ کنسیپٹ ڈیزائن، اراضی کی منتقلی اور بورڈ کی تشکیل حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ تعمیراتی معیار کو یقینی بنانے کے لیے جیو ٹیکنیکل اور سوشل امپیکٹ اسٹڈیز بھی جاری ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، سید مصطفیٰ کمال، وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ، چیئرمین پی کے ایل آئی پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
Post Views: 10.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جناح میڈیکل کمپلیکس
پڑھیں:
بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
بیرون ملک سفری پابندیوں سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صرف اوور اسٹے پر دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں، جسٹس محمد آصف نے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے پر پی سی ایل میں نام ڈالنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سفری پابندی کے لیے کسی جرم ، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید ثبوت کا وجود ضروری ہے، بغیر جرم شہری کے بیرونِ ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز نہیں۔
عدالت نے کہا کہ سفری پابندی کا اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ شہری کا نام اس طرح سفری پابندی لسٹ میں رکھنا آئین کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کے مطابق وفاقی حکومت نے بتایا کہ خلیجی ملک میں اوور اسٹے کی وجہ سے شہری ڈی پورٹ ہوا، وفاقی حکومت کا موقف ہے پالیسی کی تحت شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا، وفاقی حکومت کے مطابق دوسرے شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔