کراچی:

ناروے کپ اسٹریٹ فٹبال چیمپیئن شپ میں شرکت کے لیے جانے والا فٹ بالر اوسلو میں غائب ہوگیا، اسلام اباد کی اسٹریٹ چلڈرن ٹیم میں شامل فٹبالر امان اللہ روف بلوچ ناروے پہنچتے ہی پہلے روز غائب ہوگیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والے امان اللہ بلوچ کے غائب ہونے کی اطلاع مقامی پولیس کو دے دی گئی ہے، مزید برآں ناروے پاکستانی سفارت خانے کو بھی تمام تر تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے جبکہ پاکستان کے متعلقہ ذمہ دار حکام کو بھی تمام تر تفصیلات فراہم کر دی گئیں ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ غائب ہونے والے فٹبالر نے انڈر 15 بوائز ایونٹ میں شرکت ہی نہیں کی، دنیا بھر میں فلاحی مقاصد کے لیے معروف تنظیم مسلم ہینڈز کے تحت اسٹریٹ چلڈرن ٹیم نے ایونٹ میں شرکت کی تھی، گزشتہ برس امان اللہ نے ناروے کپ میں مقامی ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ناروے کپ میں پاکستان سے تین ٹیموں نے شرکت کی جبکہ سندھ حکومت سے ایک کروڑ 84 لاکھ روپے کی خصوصی گرانٹ حاصل کرنے والی ٹیم ایونٹ میں شریک ہونے سے قاصر رہی تھی۔

لیاری کے بیٹر فیوچر پاکستان فٹبال کلب نے ناروے کپ 2025 کا بوائز انڈر15 ٹائٹل جیتا، بیٹر فیوچر کلب کی گرلز ٹیم نے انڈر 14 ایونٹ میں اے لیول تک مقابلہ کیا، اسٹریٹ چلڈرن ٹیم اسلام آباد نے بوائز انڈر 17 کا پری کوارٹر فائنل کھیلا۔

ناروے کپ میں 30 ممالک کی 2 ہزار سے زائد ٹیموں نے 90 میدانوں میں ہونے والے مختلف ایج گروپس کے ایونٹس میں شرکت کی۔ ناروے کے بچوں اور نوجوانوں کی بہبود کے لیے سرکرداں 100 سے زائد تنظیموں کی انجمن نیشنل کونسل آف نارویجن چلڈرن اینڈ یوتھ آرگنائزیشن کے تحت ہونے والے ٹورنامنٹ میں دنیا بھر سے ٹیمیں اپنی مدد آپ کے تحت شرکت کرتی ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ کراچی سے دوسری ٹیم لیاری فٹبال اکیڈمی سندھ حکومت کی جانب سے ایک کروڑ 83 لاکھ روپے کی امداد ملنے کے باجود تاخیر کے سبب ناروے کپ میں شریک نہ ہو سکی تھی۔

سندھ کے وزیر کھیل سردار محمد بخش خان مہر نے ایونٹ میں شرکت نہ کرنے پر رقم واپس لینے کا عندیہ دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ناروے کپ میں ایونٹ میں میں شرکت

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا