وفد نے امیر العظیم سے ملاقات کے دوران انہیں کشمیر اور کشمیری مہاجرین کے حوالے سے مختلف امور کے بارے میں آگاہ کیا۔ ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمز کے وفد نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان اور وقاص انجم جعفری سے بھی منصورہ میں ملاقات کی۔ اسلام ٹائمز۔ ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمز کے وفد نے منصورہ لاہور کا دورہ کیا اور امیر جماعت اسلامی سمیت اہم عہدیداران سے ملاقاتیں کیں۔ تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جماعت اسلامی کشمیر کاز کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی، کشمیریوں کا حق خودارادیت خطے میں پائیدار امن کیلئے ناگزیر ہے۔ امیر العظیم کشمیری فلاحی ادارے ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمز کے وفد سے منصورہ میں بات چیت کر رہے تھے۔ وفد میں جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے سابق امیر عبدالرشید ترابی ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمز کے چیئرمین نذیر احمد قرشی، وائس چیئرمین ثنا اللہ ڈار  سیکرٹری  جنرل،راجہ خالد محمود خان اور پروجیکٹ منیجر احمد حسین شامل تھے۔

وفد نے امیر العظیم سے ملاقات کے دوران انہیں کشمیر اور کشمیری مہاجرین کے حوالے سے مختلف امور  کے بارے میں آگاہ کیا۔ ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمز کے وفد نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان اور وقاص انجم جعفری سے بھی منصورہ میں ملاقات کی۔ ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمز کی پریس ریلیز کے مطابق تنظیم کے وفد نے تحریک آزادی اور آزاد کشمیر اور پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کیلئے فنڈ ریزنگ کی ایک مہم شروع کی ہے، جس کی ابتداء میں سیالکوٹ میں جماعت اسلامی کے ضلع زعماء اور الخدمت فاونڈیشن کے ذمہ داروں اور بزنس کمیونٹی سے ملاقات ہوئی۔ فارورڈ سپورٹ کے مالک خواجہ مسعود اختر نے ایک پروگرام کا انعقاد کیا جس میں بزنس کمیونٹی کے معروف شخصیات شامل تھیں۔ اس  پروگرام میں وفد نے تحریک کشمیر، مہاجرین مقیم کشمیر اور پاکستان کے حالات سے ان کو آگاہ بھی کیا اور ان کی ضروریات اور ان کی ضروریات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی اور بھارت کے 5 اگست کے اقدامات کے حوالے سے بھرپور مذمت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی امیر العظیم سے ملاقات کشمیر اور کے وفد نے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری