غزہ(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 اگست ۔2025 ) فلسطینی وزارت صحت نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد 28 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غذائی قلت اور بھوک سے مزید 5 افراد جاں بحق ہو گئے ہیںاب تک بھوک اور غذائی قلت کے باعث 193 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 96 بچے بھی شامل ہیں.

وزارت صحت کے مطابق خوراک کے حصول کی کوششوں کے دوران 1500 سے زائد فلسطینی اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بھی بن چکے ہیں دوسری جانب یونیسیف کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری، جبری قحط اور محاصرے کے باعث یومیہ 28 بچے مارے جا رہے ہیں اور 22 ماہ کی جنگ میں 18 ہزار سے زائد بچوں کی جانیں جا چکی ہیں.

(جاری ہے)

یونیسیف نے خبردار کیا کہ غزہ میں بچوں کے لیے خوراک، صاف پانی، ادویات اور سب سے بڑھ کر فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے، ورنہ انسانی بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا ریڈ کراس نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں زندگیاں بچانے کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے ہسپتال مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور طبی مشینری کی مرمت کے لیے ضروری آلات دستیاب نہیں .

یورومیڈ ہیومن رائٹس مانیٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو حاصل عالمی استثنی اور بے خوفی کی وجہ سے غزہ میں اجتماعی قتل عام کا خطرہ بڑھ چکا ہے اور یہ سب قبضے کی پالیسی کا حصہ ہے دوسری جانب اطالوی اراکین پارلیمنٹ نے فلسطینی عوام سے منفرد انداز میں اظہار یکجہتی کیا ہے اٹلی کی سیاسی جماعت فائیو اسٹار موومنٹ کے ارکان نے اطالوی پارلیمنٹ میں فلسطینی پرچم کے رنگوں والے لباس پہن کر فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا.

پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران پارٹی کے ارکان نے کہا کہ آج ہم یہ پرچم نہیں لہرا رہے، کیونکہ آپ ہم سے چھین لیں گے فائیو اسٹار موومنٹ جماعت کے اراکین نے کہا کہ آج ہم اس پرچم کو اپنے جسم سے لگا رہے ہیں کیونکہ یہ اب صرف فلسطین کا پرچم نہیں، بلکہ انسانیت کے لیے جدوجہد کرنے والوں کا عالمی پرچم بن چکا ہے یہ اقدام اسرائیلی حملوں کے خلاف عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے احتجاج اور فلسطینی عوام سے ہمدردی کے اظہار کے سلسلے کاحصہ ہے. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے غذائی قلت

پڑھیں:

ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس

اسلام ٹائمز: کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔ اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث، وضو، صوم، صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس

ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس

ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس

ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس

ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس

ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس

ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس

ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس

ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس

ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس

اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسینؑ میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔ اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث، وضو، صوم، صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی، تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ